حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 324
حقائق الفرقان ۳۲۴ سُورَةُ الْمَائِدَة آنسوؤں سے اس سبب سے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم نے مانا تو تو ہمیں گواہوں میں اور ماننے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کو کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لاویں اللہ پر اور نہ مانیں اس سچی بات کو جو ہمارے پاس آئی اور یہ طمع رکھیں کہ ہم کو داخل کرے گا ہمارا رب سنوار والی قوم کے ساتھ۔ تو اللہ نے ان کو جزادی اور عنایت فرمائے اس کہنے کے بدلے باغ جن میں بہہ رہی ہیں نہریں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی جزاء ہے محسنین کی ۔ تفسیر رشک اور غبطہ بھی ایک نعمت ہے۔ کسی کو علم آتا ہے اور وہ اس علم کو رات دن اللہ تعالیٰ کے لئے پڑھاتا ہے کسی کے پاس مال ہے اور وہ اسے صبح و شام رضاء الہی میں خرچ کرتا ہے تو رسول کریم نے فرمایا کہ اس کی حالت قابلِ غبطہ ہے۔ اب دیکھو کہ اللہ جس بات کی تعریف کرے وہ کیوں مومن کے لئے قابلِ رشک نہ ہو ۔اس رکوع میں عیسائی حبشیوں کا ذکر ہے کہ جب صحابہؓ ان کے پاس ہجرت کر کے گئے اور جعفر نے قرآن سنایا تو ایسے روئے کہ گویا آنکھیں بہی جاتی تھیں ۔ تم لوگ جو مسلمان کہلاتے ہو۔ اپنے دل میں سوچو کہ کیا تمہاری یہ حالت ہے ۔ ایک جگہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ قرآن شریف کے سننے سے نے سے رونگھٹے کھڑے ے ہوتے ہوتے ہیں اور تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ - (الزمر: ۲۴) میں نے ایسے کئی نظارے دیکھے ہیں ایک امیر اپنے ایک خادم پر نہایت سخت ناراض ہوا ۔ جوش غیظ و غضب میں خادم کو مار نے اُٹھا ۔ ایک پاؤں دہلیز کے باہر تھا اور ایک اندر کہ میں آ گیا۔ میں نے پڑھا الكظِمِينَ الْغَيْظَ " (آل عمران: ۱۳۵) میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔ اور دیر تک کھڑا رہا۔ اس کا چہرہ زرد رہ گیا۔ حضرت عمرؓ کے دربار میں ایک امیر آیا۔ اس نے اس بات کو بہت مکروہ سمجھا کہ ایک دس برس کا لڑکا بھی وہاں بیٹھا ہے کہ ایسی عالی شان بارگاہ میں لونڈوں کا کیا کام؟ اتفاق سے حضرت عمرؓ اس امیر کی کسی حرکت پر ناراض ہوئے ۔ جلا دکو بلایا۔ ے بال کھڑے ہو جاتے ہیں (اُس کے سننے سے ) ان کی کھال پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں (یعنی عذاب کی جلالی آیتیں سن کر ) پھر اُن کی کھالیں اور اُن کے دل یاد الہی کی طرف نرم پڑ جاتے ہیں ۔ ے دباتے ہیں غیظ و غضب کو۔