حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 307
حقائق الفرقان ٣٠٧ ایک تارک اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔ سُورَةُ الْمَائِدَة ہمارے لئے تمہارا ارتداد بھی خوشی کا باعث ہے کیونکہ قرآن کریم میں ایسے ارتداد اور مرتدوں کے بدلہ ہم کو وعدہ دیا گیا ہے مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَة ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۳۴) اگر تم میں سے کوئی ایک مرتد ہو جاوے تو اس کے بدلہ اللہ تعالیٰ ایک بڑی قوم لائے گا۔ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والی اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرنے والا ہوگا۔ اس تارک اور اس کے اور مرتد بھائیوں کے بدلہ ہمیں قوموں کی قو میں مسلمان اور نیک مسلمان جو محبوب الہی ہوں گے عطا کرے گا اور ضرور عطا کرے گا فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمين (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۳۷) ۵۶ - إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّکٰوةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ - ترجمہ ۔ اللہ ہی تمہارا دلی دوست ہے اور اُس کا رسول اور وہ ایمان دار جو نماز کو ٹھیک درست رکھتے ہیں اور زکوۃ دیا کرتے ہیں اور جھکنے والی جماعت کے ساتھ جھکتے ہیں۔ تفسير - يُؤْتُونَ الزَّکٰوةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ۔ کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں اور ہر وقت خدا کی جناب کے فرماں بردار ہیں۔ اس آیت کو شیعہ نے حضرت علی پر لگایا ہے اور ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ہی نے بحالت رکوع زکوۃ دی تھی۔ مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ ہمارے دوست حکیم فضل دین صاحب نے ایک دفعہ ایک شیعہ کو خوب جواب دیا۔ پہلے اس سے دریافت کیا کیا حضرت ابوبکر حضرت علی کے مد مقابل میں تھے اس نے کہا ہاں ۔ انہوں نے خلافت غصب کی وغیرہ وغیرہ ۔ تب حکیم صاحب نے کہا تم ہوش کرو۔ اسی آیت کے ساتھ لکھا ہے ۔ فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَلِبُونَ (المائدہ: ۵۷) پس غالب تو تم خود ابوبکر کو مانتے ہو۔ حزب اللہ سے بھی وہی ہوا۔ اور یہی نشان ہے ان لوگوں کا جو يؤتُونَ الزَّکٰوة وَهُمْ رَاكِعُونَ کے مصداق ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ را گست ۱۹۰۹ ء صفحه ۸۷ ) ے اور اللہ ہی کی جماعت غالب ہے۔