حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 303
حقائق الفرقان ۳۰۳ سُورَةُ الْمَائِدَة هُدًى وَ نُور - ہدایت اس لئے کہ اس میں نبی کریم کی پیشگوئی ہے اور نور یہ کہ اس میں توحید بھی سکھائی ہے ۔ تشحیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۰) ۴۹۔ وَ اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَيْمِنَّا عَلَيْهِ فَاحْكُمُ بَيْنَهُم بِمَا اَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمُ شِرْعَةً وَ مِنْهَاجًا وَ لَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمُ أمَّةً وَاحِدَةً وَ لكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا الكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ - ترجمہ ۔ اور ہم نے تجھ پر برحق سچی کتاب اتاری جو سچا بتاتی ہے پاس والی کتابوں کو اور امین حافظ اور شاہد ہے اس کی۔ تو فیصلہ کر ان لوگوں میں اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا اور ان کی گری ہوئی خواہشوں پر نہ چل وہ راہ حق چھوڑ کر جو تیرے پاس آچکی (اے مخاطب!) تم میں سے ہر ایک کے لئے راستہ اور عملی نمونہ ہم نے مقرر کیا ہے اور اگر اللہ نے چاہا ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اللہ تم کو انعام دینا چاہتا ہے ان طاقتوں میں جو ہم نے تم کو دیں ہیں تو کوشش کرونیکیوں میں ۔ تم سب کو اللہ ہی کے طرف پلٹنا ہے پھر اللہ تم کو خبر دار کرے گا جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے۔ تفسیر بالحق - سرا پاحق ۔ بعض کتابیں بالکل باطل ہوتی ہیں۔ بعض میں حق و باطل ملا جلا ۔ بعضوں میں حق زیادہ ہوتا ہے اور باطل کم ۔ مگر یہ قرآن سرا پا حق ہے۔ مُهَيْمِنَّا - جامع ، محافظ - شِرْعَةً وَ مِنْهَاجًا - شِرْعَةً کہتے ہیں پانی کے گھاٹ کو۔ اور مِنْهَا جا خشکی کا راستہ کہتے ہیں۔ انسان کو دو ضرورتیں ہیں۔ ایک ضرورت تو اللہ کی پاک شریعت ہی سے حل ہوتی ہے۔ اور ایک قسم کی ضرورت کو اللہ نے انسان کے عقل و فہم پر چھوڑ دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم زراعت کرو۔ اب کھیتوں میں بیج بونے کے طریق کو شریعت میں داخل نہیں کیا۔ ایسا ہی کپڑے پہننے کا حکم ہے مگر اب ہر ملک کے موسموں کے سبب جیسا کپڑا چاہیے یہ انسان کے فہم پر چھوڑ دیا ہے۔