حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 298
حقائق الفرقان ۲۹۸ سُورَةُ الْمَائِدَة بنائے ہیں ۔ ان پر جھوٹا قیاس کرتا ہے مثلاً باریک سوئی ململ کو سی سکتی ہے تو وہ سمجھے کہ ہل کا پھالا بطریق اولی اسے جلد سی سکتا ہے یا جیسے بیوقوف لوگ کہا کرتے ہیں کہ جب معمولی آدمی اس دنیا میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔ تو نبی ، ولی جسم سے الگ ہو کر بعد وفات بطریق اولی ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ کوئی شخص جہاز میں لوہا سمجھ کر پھر بہت سالوہا لے کر اس پر ہو بیٹھے اور سمجھے کہ میں اس پار اتر جاؤں گا۔ یہ بے عقل ہے۔ پس الوسیلہ فرمایا ۔ یعنی ذریعہ ہو ۔ مگر اس ذریعہ کو دیکھ لو وہ بے ایمانی کا تو نہیں ۔ عقل و تجربہ و ایمان کے موافق ہے یا نہیں۔ مکلف انسان عقل و تجربہ و ایمان سے تقویٰ کے سامان کرے مگر وہ عقل و تجربہ وشریعت کے خلاف نہ ہوں ۔ پھر یہ کہ مجاہدہ فی سبیل اللہ کرے۔ جب ان تین قاعدوں پر چلے گا تو مظفر و منصور ہو گا۔ بعض لوگ حقیقی ذرائع سے کام نہیں لیتے اور چاہتے ہیں کہ گھر بیٹھے ہم کو عمدہ لباس ، عمدہ مکان ، راحت و آرام کی چیز مل جائے ۔ ایسے لوگ آخر مثلاً چوری کا پیشہ وغیرہ ناجائز اختیار کر لیتے ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مورخه ۱۲ اگست ۱۹۰۹ ء صفحه ۸۵) ٣٩ وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءًا بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ - ترجمہ ۔ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ سزا ہے ان کے کرتوت کی عذاب ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ بڑا زبردست بڑا حکمت والا ہے۔ تفسير وَالسَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ - چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو ۔ یہ بدلہ ہے ان کے کسب کا اور عبرت کا موجب ہے اللہ کی طرف سے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۹۷) السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ - مرد ہو یا عورت ایسے پیشہ وروں کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مورخه ۱۲ اگست ۱۹۰۹ ء صفحه ۸۵ )