حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 297
حقائق الفرقان ۲۹۷ سُورَةُ الْمَائِدَة اصول یہ ہے کہ حکموں کا پابند ہو۔ یہ بد معاش لوگوں کا اصول ہے کہ دنیا کھائے مکر سے ۔ ایسے لوگ کبھی سکھ نہیں پاتے۔ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ - وسیلہ کے دو معنے ہیں ۔ ایک تو حاجت ۔ پس مطلب یہ ہوا کہ به اپنی حاجتیں جناب الہی میں لے جاؤ ۔ دیکھو سورۃ بنی اسرائيل أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ - (بنی اسرائیل: ۵۸) یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ تو خود اپنی حاجتیں رب کے حضور مانگتے ہیں ابن عباس کا ایک شعر كُلُّ الرِّجَالِ لَهُمْ إِلَيْكَ وَسَيْلَةٌ - دوسرے معنے ہیں ذریعہ کے۔ اور ذرائع چار قسم کے ہیں۔ ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کو با ایمان کہتے ہیں۔ ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کو عقل مند کہتے ہیں ۔ ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کو بے ایمان کہتے ہیں۔ ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کو بے عقل کہتے ہیں۔ مثلاً اللہ کے لے حکموں کو ماننا۔ نیک بننا ۔ ہدایت کی بات مان لینا۔ یہ تمام مذہبوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے پس اس ذریعہ پر عمل کرنے والا با ایمان ہے۔ دوم ۔ مثلاً پار جانا ہے۔ دریا میں موجوں پر موجیں آ رہی ہیں ۔ اب وہاں کشتی کا سامان کرنے والا عقل مند کہلاتا ہے۔ سوم - مثلاً بت پرست بت کے آگے ناچتا ہے۔ عمدہ کھانے پکا کے اس کے سامنے رکھتا ہے۔ قبر کو سجدہ کرتا ہے ۔ اللہ کے نام کے سوا کسی کا روزہ ، طواف، قربانی کرتا ہے۔ اس وسیلہ کو اختیار کرنے والا بے ایمان ہے۔ چہارم ۔ مثلاً ایک ایسا آدمی ہے جو ان وسائل کو جو قدرت نے کسی مطلب کے حصول کے لئے اے سب لوگوں کے لئے تو ہی حاجت روا ہے۔