حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 294
حقائق الفرقان ۲۹۴ اسرائیلیوں نے وہ نبی (اسمعیلی ) کا قتل چاہا۔ اس قصہ سے متنبہ فرمایا۔ سُورَةُ الْمَائِدَة تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۰) ۲ ٣٣٣٢- فَبَعَثَ اللهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ قَالَ يُوَيْلَتَى اَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَأَوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي فَأَصْبَحَ مِنَ اللَّهِ مِينَ - مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا اَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ - ترجمہ ۔ پھر اللہ نے بھیجا ایک کوا وہ زمین کریدنے لگا تا کہ اس کو دکھاوے کہ کس طرح وہ چھپاتا ہے اپنے بھائی کی لاش کو ۔ قابیل نے کہا مجھ پر افسوس ہے کہ میں ( اس کوے سے بھی گیا گزرا ہوا) کاش اس کڑے ہی کے جیسا ہوتا جو کہ چھپا دیتا ہے وہ اپنے بھائی کی لاش کو ۔ پھر وہ سخت نادم ہونے لگا۔ اس واقعہ کے سبب سے ہم نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ جو کسی کو مار ڈالے بغیر بدلے یا بغیر ملک میں شرارت کرنے کے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو مار ڈالا اور جس نے اس کو زندہ رکھا گویا اس نے سب کو زندہ رکھا۔ اور بے شک ان کے پاس آچکے اور لا چکے ہیں؟ ہیں ہمارے رسول کھلی کھلی نشانیاں پر بہت سے لوگ ان میں کے ان دلیلوں کو دیکھے بعد بھی ملک میں زیادتیاں کرتے پھرتے ہیں ۔ ۔ تفسیر - فَبَعَثَ اللهُ غُرَابًا ۔ کوے میں تین صفتیں عجیب ہیں اس کوے کو کسی نے جماع کرتے کم دیکھا ہے۔ ۲۔ ایک ٹکڑا بھی کھانے کو مل جائے ۔ اڑ کر اوروں کو اطلاع ضرور کرے گا کہ یہاں کچھ ملنا ہے۔ ۳۔ کسی کوے کو صدمہ پہنچے سب وہاں جمع ہو جاتے ہیں ۔ اسی واسطے شور و غل کو ہماری زبان پنجابی میں ” کا واں روٹی کہتے ہیں ۔ ہم نے ایک بڑے شکاری سے پوچھا۔ کبھی کسی کوے کی لاش تم نے جنگل میں دیکھی ہے۔ تو اس نے کہا نہیں ۔ اس سے تین باتیں نکلیں ۔ ۱۔ شرم و حیاء بھی کوئی چیز ہے ۲۔ نیک برتاؤ کرنا چاہیے اور ہمدردی ۔ ۳۔ مردے کی لاش کو دبانے کی فکر۔ یہ قصہ اشارہ ہے اس