حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 289
حقائق الفرقان ۲۸۹ سُورَةُ الْمَائِدَة فَتُقُتِلَ مِنْ أَحَدِهِمَا - قبولیت کا پتہ معلوم ہو ۔ کلام الہی سے یا آدم علیہ السلام کو بذریعہ الہام البہی علم ہوا۔ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ۔ یہ آیت قابلِ غور ہے۔ اعمال نیک بھی نیکوں ہی کے قبول ہوتے ہیں۔ دوسرے موقعہ پر فرما چکا ہے کہ جو رِئَاءَ النَّاسِ (النساء:۳۹) پر عمل کرتے ہیں ان کی مثل ایسی ہے جیسے کوئی پتھر پر مٹی بچھا کر تخم ریزی کرے۔ بارش آئے وہ کھیتی کو مع زمین بہالے جائے اور صاف چٹیل چھوڑ جائے ۔ (ضمیمہ اخبار اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ را گست ۱۹۰۹ ء صفحه ۸۴ ) اسلام نے کن قربانیوں کو جائز رکھا ہے؟ سواؤل انسانی قربانی کا ذکر کرتے ہیں ۔ مگر قبل اس کے کہ اس کا بیان کریں قربان کے لفظ کی جس سے قربانی کا لفظ نکلا ہے۔ تشریح کرتے ہیں ۔ سنو ! اس لفظ قربان کے لغت عرب میں کیا معنی ہیں ۔ قَرُبَ الشَّيْئُ قُرْبَانًا ۔ خوب ہی نزدیک ہوئی یہ چیز ۔ الْقُرْبَانُ بِالضَّمِّ مَا قَرُب إِلَى اللهِ - قربان پیش کے ساتھ جو اللہ کی طرف نزدیک کرے۔ وَمَا تَقَرَّبَتْ بِهِ ۔ اور قربان وہ ہے جس کے ذریعہ تو اللہ کے نزدیک ہو۔ وَالْقُرْبَانُ جَلِيسُ الْمَلِكُ وَخَاصَّةٌ - قربان بادشاہ کا مجلسی اور اس کا ممتاز ۔ وَمِنْهُ الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِي - اسی محاورہ پر ہے کہ نماز ہر ایک متقی کے لئے قربان ہے۔ اور حدیث میں آیا ہے۔ مَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَى بِالنَّوَا فِلِ حَتَّى أَحْبَبْتُهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يَنْصُرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ۔ ( بخاری ) میرا بندہ نفلوں کے ذریعہ میرے قریب ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اسے پیار کرتا ہوں۔ جب میں اسے پیار کرتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اور آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور ہاتھ جس سے وہ پکڑتا ہے اور پاؤں جس سے چلتا ہے۔ پس قربان کے معنی ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا مندیوں میں اپنے آپ کو محو کر دینا اور اس ذریعہ سے اپنے آپ کو اس کے نزدیک کرنا اور اس کے خاصوں میں ہو جانا۔ جب کوئی انسان ایسا ہوتا ہے کہ نہ