حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 273
حقائق الفرقان ۲۷۳ سُورَةُ الْمَائِدَة ه - يَسْتَلُونَكَ مَا ذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أَحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبْتُ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَمَكُمُ اللهُ فَكُلُوا مِمَّا امْسَكُنَ عَلَيْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۔ ترجمہ ۔ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کیا حلال ہے تو کہہ دے کہ تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں ہیں اور جو شکاری جانور تم نے شکار کے واسطے سدھا رکھے ہوں اللہ نے جو تم کو سکھا رکھا ہے تم ان کو سکھا چکے ہو تو کھا لو اس شکار میں سے جو وہ تمہارے واسطے پکڑ رکھیں تمہارے اشارہ سے دبوچیں اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ۔ بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ تفسیر ۔ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۔ پوچھتے ہیں۔ کیا کیا حلال ہے؟ ہم نے حرام بتا دیئے ہیں۔ باقی سب حلال ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ طیب ہوں ۔ فطرت صحیحہ بتا دیتی ہے کہ طیب کیا ہے۔ مثلاً پاخانہ ہے۔ یہ بدن سے نکالا گیا ہے۔ پس اسے واپس کرنا فطرت کے خلاف ہے۔ الطيبت ۔ جن سے تمہارے بدن اور اخلاق و مذہر اق و مذہب ہب کو ضرر نہ پہنچے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ را گست ۱۹۰۹ صفحه ۸۳) يَسْتَلُونَكَ مَا ذَا أُحِلَّ لَهُمْ (المائدة : ۵) پوچھتے ہیں کیا کچھ کھانے میں حلال ہے ۔ جواب دے أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبت تمہارے لئے تمام وہ چیزیں جو غالب عمرانات کے سلیم الفطرتوں میں ستھرے اور پسندیدہ ہیں وہ تو حلال کر دی گئیں ۔ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔ تصانیف حضرت مولانا نورالدین صفحه (۱۶) ٦ - الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبْتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَكُمْ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنْتُ مِنَ الْمُؤْمِنَتِ وَالْمُحْصَنْتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ وَ لَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَ مَنْ يَكْفُرُ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ - ترجمہ ۔ آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے