حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 264 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 264

حقائق الفرقان ۲۶۴ سُورَةُ الْمَائِدَة ہے ۔ وہ کیا ؟ غیبت صحابہؓ نے پوچھا کہ کسی میں وہ عیب واقعی ہے تو اس کا تذکرہ تو برا نہ ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ یہی تو غیبت ہے۔ اگر وہ عیب واقعی نہیں تو اس کا نام بہتان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جا بجا اپنی عبودیت سکھائی ہے۔ پھر سچ ہو۔ غیبت نہ ہو۔ تو اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ مجاز بولو مگر ایک دو مجاز کی بھی اجازت نہیں ۔ مثلاً انبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقَلَ ( بہار نے سبزی بولومگر اُگائی) بول سکتے ہیں مگر مطرنا بنو گذار بولنا منع ہے حالانکہ یہ میچ ہے کہ جب برج آبی میں چاند چلا گیا تو بارش ہوتی ہے۔ مگر حکم الہی آگیا کہ ایسا کہنا چھوڑ دو تو چھوڑ نا پڑا۔ اسی طرح جانوروں کے کھانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ہرنی بھی بے شک بکری ہے اور نیل گائے بھی گائے ہے۔ حالت احرام میں شکار نہ کرو۔ وجہ سمجھ نہ آئے تو عام مومن یہی سمجھ لیں ۔ اِنَّ اللهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ اگست ۱۹۰۹ ء صفحه ۸۲) الْعُقُودِ - محامدات - حدود اوامر نواہی ۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۵۰) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَابِرَ اللهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَا بِدَ وَلَا آمِينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ - ترجمہ ۔ اے ایماندارو! جہاں عظمتِ الہی کے نشان کا پتہ لگے اُسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھو اور نہ تعظیم والے مہینے کو اور نہ قربانی کے عام جانوروں کو جو دینی ہوں اور نہ نیاز الہی کے جانورں کو جن کے گلوں میں پٹے پڑے ہوں نشان دہی کے لئے اور نہ ان کو جو عزت والے گھر کو جارہے ہوں اپنے رب کے فضل کے طلب گار ہوں اور خوشنودی کے طالب بن کر۔ اور جب تم احرام سے باہر آ جاؤ تو شکار کر لو اور تمہیں کسی قوم کی عداوت مجرم نہ بنا دے کہ انہوں نے روک دیا تھا تمہیں عزت والی مسجد سے تو تم زیادتی کرو، اور نیکی اے فلاں ستارے کے طفیل ہم پر بارش برسائی گئی ۔