حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 14

حقائق الفرقان ۱۴ سُورَةُ آل عِمْرَان ۱۸ - الصبِرِينَ وَ الصُّدِقِينَ وَالْقَنِتِينَ وَ الْمُنْفِقِينَ وَ الْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ - ترجمہ۔ نیکیوں پر ہمیشگی کرنے والے اور بدیوں سے بچنے والے اور ہر حال میں باوفا اور سیچ بولنے والے اور مطیع فرمانبردار اور اللہ ہی کے لئے خرچ کرنے والے اور پچھلی ، اور پچھلی رات میں گناہ بخشوانے والے ( کیا ہی اچھے لوگ ہیں ) ۔ تفسير الطبرين - متقی کی یہ صفت ہے کہ اس میں برداشت و تحمل ہوتا ہے اور یہ صبر کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی قدرت سے باہر ہو اسی لئے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) فرما چکا ہے۔ ایک رئیس تھا اس کے حضور میں ایک شخص نے عرضی دی کہ حضور کی قوم کے ایک آدمی نے مجھے گالی دی ہے۔ اسے بلایا گیا ۔ رئیس نے اُس ملزم کو بہت گالیاں دیں جو اس کی شان سے بعید تھیں ۔ اخیر اس حاکم نے اس سے پوچھا تم نے اس آفیسر کی کیوں بے عزتی کی؟ تو وہ کہنے لگا کہ اس نے مجھے گالی دی تھی پھر مجھ میں تاب حوصلہ نہ رہی ۔ رئیس نے کہا کہ صبر کی طاقت تو تجھ میں ہے۔ دیکھو میں نے بھی تجھے گالیاں دیں اور تم چپکے ۔۔۔۔۔۔ سنا کئے ۔ اگر لوگ صبر کریں تو بہت سی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاوے۔ صبر کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے اپنے تئیں روکنا۔ غیظ و غضب سے، شہوت سے، حرص و آز سے۔ الصُّدِقِينَ - راست باز الْقَنِتِينَ ۔ فرماں بردار وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ ۔ لوگوں نے اس بات پر بحث کی ہے کہ تجد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فرض تھی یا دوسروں پر بھی ؟ اس آیت سے کم از کم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ استغفار اسحار میں متقی کا فرض ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مؤرخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۵۵) لے اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُس کی برداشت کے موافق۔ (ناشر)