حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 219 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 219

حقائق الفرقان ۲۱۹ سُورَةُ النِّسَاء کہ حضرت مرزا صاحب اکیلے اور ان کے مقابلہ پر بڑے بڑے ادیب ۔ شاعر اور عالم موجود ہیں اور کوئی مقابلہ پر عربی کی کتاب نہیں لکھ سکتا ۔ پھر ایک بات یہ بھی بڑے مزے کی تھی کہ جب کوئی دشمن مقابلہ کے لئے جاتا ۔ اس کے بعد ہی جلد اسلام قبول کر لیتا ۔ اور وہ فوراً فوج کا سپہ سالا ربنا دیا جا تا غرضیکہ نصرت اور تائید کے جو وعدے اللہ تعالیٰ کے آنحضرت اور مومنوں کے ساتھ تھے ان میں بھی کوئی تخلف نہیں ہوا اور یہ سب باتیں قرآن کے منجانب اللہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔ رد شیعہ ۔ اس آیت سے بھی شیعوں کے خیالات کی تردید ہوتی ہے۔ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ ہم نے سب مومنوں کو بھائی بھائی بنادیا اور ان کے دلوں میں کوئی کینہ اور حسد وغیرہ نہیں ہے۔ پس اگر حضرت عمر اور علی میں اخلاص۔ اتفاق اور باہمی محبت نہ تھی تو پھر تو قرآن کے خلاف ہو گا ہوا مگران کا یہ خیال غلط ہے۔ دیکھو حضرت عمر جب شام کو تشریف لے گئے تو حضرت علی کو اپنا خلیفہ (مقرر ) کر گئے۔ بقول شیعہ اگر علی حضرت عمررؓ کو حق بجانب نہ جانتے تھے تو اب تو عنان حکومت ان کے ہاتھ میں تھی ۔ اپنا پورا تصرف کر لیتے۔ لیکن ہم یہ تو نہیں کہتے کہ وہ اتنی جرات کہاں سے لاتے چونکہ وہ سب آپس میں بھائی بنا دیئے گئے تھے اس لئے کوئی فساد کی بات نہ ہوئی اور نہ ان میں سے کسی کے دل میں دعا تھی۔ غرضیکہ قرآن پر عمل درآمد کرنے والوں میں بھی اختلاف نہیں ہوا کرتا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۷۳) اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات امن کی یا خوف کی۔ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اچھا ہوتا اگر لے جاتے اس کو رسول کے پاس یا اپنے میں سے ان لوگوں کے پاس جو بات سے بات نکالتے ہیں ۔ اور اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا تو تم سب شیطان کے مطیع ہو جاتے۔ الا قليلا - یہ محاورہ عرب ہے۔ اس کے معنے ہوا کرتے ہیں ۔ سب کے سب یعنی جس قدر ہوں ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۷۳) لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ الله وعده وعید کی پیشگوئیاں قرآن میں ہیں ۔ عین مطابق واقعہ ہوتی ہیں ۔