حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 213 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 213

حقائق الفرقان له الله سُورَةُ النِّسَاء کو معلوم کر لیتے وہ لوگ جو مصلحتوں کو معلوم کر سکتے ہیں اُن میں سے۔ اور اگر اللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا اور اُس کی رحمت تو سب شیطان کے مطیع ہو جاتے مگر تھوڑے سے لوگ ( اللہ کے فضل سے بچ جاتے )۔ تفسیر - لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا - وعید وعدے میں اختلاف تو ہوتا ہے مگر کثیر نہیں ہوتا۔ تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۹) قرآن میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ اس میں اختلاف اور تناقض نہیں۔ پھر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایسی صریح اور پر شوکت تعلیم کے خلاف یہ الزام لگایا جائے کہ اس میں شرک کی تعلیم ہے ۔۔۔ قرآن کریم اپنی نسبت دعوی کرتا ہے جیسے فرمایا وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا - اگر قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے ۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۳) وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا کے معنی ہیں اگر قرآن جناب الہی کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا۔ بات یہ ہے کہ لمبے چوڑے دعوی کرنے والے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ اول پاگل :۔ اور ظاہر ہے کہ ان کے تمام دعاوی صرف مہمل اور نقش بر آب ہوتے ہیں ۔ ان کی دشمنی اور دوستی کچھ بھی قابلِ اعتماد نہیں ہوتی ۔ قرآن کریم نے نبی کریم کو اس اتہام سے یوں بری کیا ۔ مَا انْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَ إِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُونَ بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ - (القلم: ۳ تاے ) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے رب کے فضل سے تو مجنون نہیں اور بے ریب میرا بدلہ غیر منقطع ہے کیونکہ تو اعلیٰ اخلاق پر ہے اور مجنون کے اخلاق و فضائل اعلیٰ کیا ادنی درجہ پر بھی نہیں ہوتے پھر مجنون تمام دن اور رات میں کوئی کام کرے اس کے کاموں پر کچھ نتائج و ثمرات صحیحہ واقعیہ مرتب نہیں ہوا کرتے اور جو تو نے کام کئے ہیں ان کے نتائج تو بھی دیکھ لے گا اور تیرے مخالف بھی دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ اب غور کرو کہ جا بجا قرآن کریم میں دعویٰ کیا گیا کہ ہم ( اللہ تعالیٰ ) رسولوں اور ان کے ساتھ والوں کی نصرت و تائید کرتے ہیں اور یہ گروہ ہمیشہ مظفر و منصور ہوتا ہے۔ غور کرو! جب رسول آئے