حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 212
حقائق الفرقان ۲۱۲ سُورَةُ النِّسَاء ہو۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہیں ہی ۔ لیکن جو احکام رسول کے ہیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جس طرح قرآن شریف کی حفاظت کی ہے اسی طرح تعامل اور حدیث کی بھی کی ہے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ٫۵ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵۷) ۸۲- وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ وَاللهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ فَاعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَ كَفَى بِاللهِ وَكِيلًا - ترجمہ ۔ وہ کہتے ہیں ہم تیرے فرماں بردار ہیں پھر جب تیرے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ایک جماعت اُن میں کی رات کو خفیہ منصوبے کرتی ہے اُس کے خلاف جو تیرے سامنے کہتی تھی اور اللہ نوٹ کر لیتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے جو کچھ وہ راتوں کو منصوبے کرتے ہیں تو تو اُن سے منہ پھیر لے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھ اور اللہ ہی کارساز بس ہے۔ تفسیر۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو فرماں بردار ہیں ۔ پس جب باہر چلے جاتے ہیں تیرے پاس سے تو جو کچھ تو کہتا ہے اُس کے خلاف رات کو چھپ چھپ کر ایک گروہ کا نا پھوسی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے محفوظ رکھتا ہے۔ تو ان سے اعراض کر لے اور اللہ پر توکل کر اور اللہ ہی کافی کارساز ہے ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۷) ۸۴،۸۳۔ اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا وَ إِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَ لَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَ إِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَا تَبَعْتُمُ الشَّيْطَنَ إِلَّا قَلِيلًا - ترجمہ ۔ کیا وہ قرآن میں گہری فکر اور تدبر نہیں کرتے کیونکہ اگر وہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔ جب اُن کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اُسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اس خبر کو رسول کے پاس پہنچاتے اور اپنے افسر کے پاس تو اُس بات کی مصلحت