حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 205
حقائق الفرقان ۲۰۵ سُورَةُ النِّسَاء کوئی بہادری کا کام کر سکتا ہے بدوں حکم الہی دعوے کرنے والے اکثر ناکام رہتے ہیں۔ میں نے ایک جنگی افسر سے پوچھا کہ آپ کے لشکر میں بہادر اور بزدل کی کیا نشانی ہوا کرتی ہے۔اس نے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ جو سپاہی اکثر مونچھوں پر تاؤ دیتے رہتے ہیں وہ عموماً میدانِ جنگ میں بزدلی ظاہر کرتے ہیں اور جو سیدھے سادھے ہیں وہ لڑائی کے وقت شیر کی طرح حملہ کرتے ہیں ۔ غرض خوب سمجھ رکھو کہ جو لوگ بلاوجہ تکبر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق نہیں دیا کرتا۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا بیان کیا ہے کہ بعض لوگ اس قدر جلد باز تھے کہ ان کو کھوا ايديكم کہنا پڑا لیکن جب ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا تو کہنے لگے لَوْلَا أَخَرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ ۔ اس قسم کی لاف زنی وغیرہ کی غلطیاں انسان میں جو ہوتی ہیں ان کا علاج اور نیز ہر ایک مرض کا علاج۔ کثرت سے استغفار اور لاحول پڑھنا ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ سابقہ گنا ہوں کے بدنتائج سے محفوظ رکھے اور آئندہ بدی کے ارتکاب سے حفاظت بخشے ۔ استغفار اور لاحول کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ! تیری قوت کے بغیر میں کوئی بدی نہیں چھوڑ سکتا۔ اور نہ تیری قوت کے بغیر کوئی نیکی کا کام کر سکتا ہوں ۔ تب خدا نیکی کرنے کی توفیق بخشے گا۔ انسان پر مشکلات آتے ہیں لیکن اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے۔ میں خود بھی قرآن پڑھتا ہوں اور تم کو بھی سناتا ہوں ۔ تم جانتے ہو کہ قرآن میں دو طرح کی را ہیں بیان کی ہیں ایک طرف انبیاء اور متقین کا ذکر اور ایک طرف فاسقوں اور فاجروں کا بیان ہے۔ کہیں گندے آدمیوں کے برے انجام بتلائے ہیں کہیں بھلوں کے نیک انجام دکھلائے ہیں ۔ پس مومن کا کام ہے کہ ان تمام راہوں سے واقفیت حاصل کرے۔ کسی کو یہ خیال نہ گزرے کہ بعض وقت درس میں ایسی باتیں بیان ہوتی ہیں جن کی لڑکوں کو خبر بھی نہیں ہوتی اور جب بیان ہوتی ہیں تو وہ ان سے آگاہ ہو جاتے ہیں تو اس بدی کا ارتکاب کرتے ہیں ایسا خیال کرنا بے وقوفی ہے۔ میرے پاس ہزاروں خط اس مضمون کے بھرے ہوئے آتے ہیں کہ نا واقفی کی وجہ سے ہم ہلاک ہو گئے ۔ نا واقفی ۔ بہت بری بلا ہے۔ جولڑ کا ہم سے سنے کہ زنا بھی کچھ شے ہے اور پھر اس سننے پر زنا کاری شروع کر