حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 198 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 198

حقائق الفرقان ۱۹۸ سُورَةُ النِّسَاء سے اس پر عمل کرو۔ اسلام کی یہی ہدایت ہے۔ قرآن کریم نے یہی تعلیم دی۔ صحابہ کا نمونہ موجود ہے۔ ہمارا امام اس کی تاکید کرتا آیا اور اس نے متعدد کتابوں میں اس امر پر بحث کی اور تم نے اس کے منہ سے سنا اور میں بھی تمہیں وہی کہتا ہوں جو تم پہلے سن چکے ہو۔ غرض اولوا الامر کی اطاعت کرو۔ (الحکم جلد ۱۳ نمبر ۹ تا ۱۱ مؤرخہ ۷ ، ۱۴ ، ۲۱ مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۳۴، ۳۵) فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ (النساء: ۶۰) یعنی اگر تم میں کسی امر کی نسبت تنازع ہو تو اس کا آخری فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کی اتباع سے کرلو۔ یہی ایک سیدھی راہ ہے۔ مگر یہ یا د رکھو کہ اہل حق کے انکار کا مدار تکبر پر ہوتا ہے اس لئے اس سے دور رہو۔ ورنہ کیسی تعجب کی بات ہے کہ ہمارے سید و مولی فرماتے ہیں کہ مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف:۱۰) میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا۔ آدم سے لے کر ابتک جو رسول آئے ہیں ان کو پہچانو ۔ ان کی معاشرت، تمدن اور سیاست کیسی تھی اور ان کا انجام کیا ہوا ، ان کی صداقت کے کیا اسباب تھے، ان کی تعلیم کیا تھی ، ان کے اصحاب نے ان کو پہلے پہل کس طرح مانا، ان کے مخالفوں اور منکروں کا چال چلن کیسا تھا اور ان کا انجام کیا ہوا ؟ یہ ایک ایسا اصل تھا کہ اگر اس وقت کے لوگ اس معیار پر غور کرتے تو ان کو ذراسی دقت پیش نہ آتی اور ایک مجدد، مہدی ، مسیح ، مرسل من اللہ کے ماننے میں ذرا بھی اشکال نہ ہوتا۔ مگر اپنے خیالات ملکی اور قومی رسوم بزرگوں کے عادات کے ماننے میں تو بہت بڑی وسعت سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اس کے احکام کے لئے خدا کے علم اور حکمت کے کے پیمانہ کو اپنی ہی چھوٹی سی کھوپڑی سے ناپنا چاہتے ہیں ۔ ہر ایک امام کی شناخت کے لئے یہ عام قاعدہ کافی ہے کہ کیا یہ کوئی نئی بات لے کر آیا ہے؟ اگر اس پر غور کرے تو تعجب کی بات نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اصل حقیقت کو اس پر کھول دے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو بیچ سمجھے اور تکبر نہ کرے ورنہ تکبر کا انجام یہی ہے کہ محروم رہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۰، ۱۱)