حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 197
حقائق الفرقان مِنكُم (النساء : ٦٠) ۱۹۷ سُورَةُ النِّسَاء اس آیت میں دو لفظوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو آج کل کی بیماریوں کے لحاظ سے بہت ہی ضروری ہے۔ یادرکھو کہ کتاب اللہ کے علاوہ رسول کریم کی فرمانبرداری کی بھی بہت ہی ضرورت ہے اور بدوں اس کے ایمان کی کے ایمان کی تکمیل ہوتی ہی نہیں ۔ اسی لئے فرمایا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ ۲ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : ۲۲) ایک قوم ہے جو کہتی ہے کہ رسول اللہ کی فرمانبرداری کی ضرورت نہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ أَطِيعُوا الرَّسُولَ سے مراد قرآن ہے۔ یہ دجال کی ایک قسم ہے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ اس سے شرک لازم آتا ہے۔ میں انہیں سورۃ نوح کی ایک آیت سناتا ہوں ۔ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ - أَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ (نوح:۴۰۳) ۔ پس اگر اطاعت الرسول سے شرک لازم آتا ہے تو پھر اس کی بنا نوح۔ ح نے ڈالی۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ اصل یہی ہے کہ رسول کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت له ہے۔ چنانچہ فرما یا مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله (النساء : (۸) اولوا الامر سے مراد حا کم ہے۔ حکام کی فرمانبرداری کی تعلیم اسلام نے دی ہے اور اس کو داخل شعب ایمان کیا ہے۔ ہم طوائف الملوکی میں بھی رہ چکے ہیں ۔ جب ہم مکہ میں تھے۔ پھر حبشہ کی طرف جب ہجرت ہوئی تو عیسائی سلطنت کے نیچے رہے۔ جمہوری سلطنت میں بھی رہے کیونکہ مدینہ میں جمہوری حکومت ہی تھی۔ پس ہمیں کسی حکومت کے ماتحت رہنے میں کوئی بھی مشکل نہیں ۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ سچے دل سے حاکم وقت کی اطاعت کریں۔ میرے دل میں اس کے لئے درد ہے۔ حکام کے مطیع اور فرمانبردار رہو۔ بلکہ میرا تو یہ جوش ہے کہ سپاہی ہو نمبر دار ہو اس کی بھی اطاعت کرو۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم گورنمنٹ کے سچے فرمانبردار بنو اور کسی ایسے منصوبے میں شریک نہ ہو جو اولوا الامر کے خلاف ہو جیسا کہ اب تک تم نے اپنے طرز عمل سے دکھایا ہے آئندہ اور بھی مضبوطی اے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اُن کا جو تم میں سے حکومت والے ہوں ۔ ( ناشر ) ے تمہارے لئے موجود ہے اللہ کے رسول میں نیک چلنی کا نمونہ۔ میں تم کو صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔ عبادت کرو اللہ کی اور اسی کو سپر بناؤ اور میرا کہا مانو۔ ( ناشر ) جس نے رسول کا حکم مانا اور اس کی اطاعت کی بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ ( ناشر )