حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 190
حقائق الفرقان ۱۹۰ سُورَةُ النِّسَاء ۴۹ - إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا - ترجمہ ۔ بے شک اللہ یہ قصور نہیں معاف کرتا کہ کسی کو اُس کے برابر سمجھا جائے ، اُس کا شریک کیا جائے اور معاف کر دیتا ہے اس کے سوائے نیچے کے گناہ (سب قصور ) جس کو چاہے اور جس نے اللہ کا شریک کیا تو اس نے گناہ کا بڑا طوفان باندھا۔ کاتر تفسیر - إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ ۔ کسی آدمی پر بھروسہ نہ کرو۔ ڈپلومے اور سند پر بھروسہ کرنا بھی شرک ہے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے بڑے فخروناز سے میرے سامنے ڈپلومہ کی بڑائی کا ذکر کیا تو میرے پاس بھی ایک سند تھی ۔ اُسی کے سامنے منگا کر اُس کو چاک کر دیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۰ مؤرخہ ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۷ ) اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس سے شرک کیا جائے اور اس کے نیچے ورے جسے چاہے معاف کرتا ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۱۳۱) اللہ یہ نہیں بخشا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جاوے اور اس سے نیچے بخشتا ہے۔ ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۸۹ حاشیه ) قرآن بیان کرتا ہے۔ گناہ تین قسم کے ہوتے ہیں۔ اول شرک ، دوم کبائر ، سوم صغائر ۔ شرک کی نسبت قرآن کریم فیصلہ دیتا ہے کہ وہ ہرگز بدوں تو بہ معاف نہ ہوگا۔ اس کی سزا بھگتنی خر ضرور ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ (النساء: ۱۱۷) ۔ انجیل بھی با ایں کہ بڑی بشارت اور بشیر ہے۔ فرماتی ہے روح کے خلاف کا کفر معاف نہ ہوگا، سمتی باب ۲ وو (۳۱:۱۲ لے قرآن مجید کی تنذیر و تبشیر بر خلاف توریت وانجیل کی افراط و تفریط کے ٹھیک انسان کی حالت امید و بیم کے مناسب ہے جو بحسب فطرت اس کی جبلت میں مرکوز ہے۔ کیا ہی عجیب آیت قرآن کی ہے نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَ أَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ (الحجر: ۵۱،۵۰) ترجمہ۔ خبر سنا دے میرے بندوں کو کہ میں اصل بخشنے والا مہربان ہوں اور یہ بھی کہ میری ما روہی دُکھ کی مار ہے ۔ ( ناشر )