حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 184
حقائق الفرقان ۱۸۴ سُورَةُ النِّسَاء (یعنی حتی المقدور سمجھاؤ کبھی سرزنش سے کبھی الگ سونے سے اگر اس طرح بھی نہ سمجھیں تو جیسے مذکور ہوا) پھر مرد اور عورت کے رشتہ داروں سے حکم بلاؤ۔ اس تدبیر کے موافق اگر عورت اور مرد کا ارادہ اصلاح کا ہوگا تو اللہ ان میں موافقت پیدا کر دے گا۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۹۶) ۳۷۔ وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُربى وَالْيَثْنى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا - ترجمہ۔ اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ رشتہ داروں اور یتیموں اور بے کسوں اور قرابت دار پڑوسیوں اور اجنبی پڑوسیوں اور پاس بیٹھنے والے رفیقوں اور بیبیوں اور مسافروں اور غلام باندیوں اور جانوروں کے ساتھ جو تمہارے قبضہ میں ہوں نیک سلوک کرو۔ بے شک اللہ ان کو دوست نہیں رکھتا جو اتراتے اور بڑائی مارتے پھرتے ہیں ۔ تفسیر وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْيًّا (النساء:۳۷) فرمانبردار عبادت کرنے والے اللہ کے بنو اور کسی چیز کو کچھ ہی ہو اس کا کسی امر میں ساجھی اور شریک نہ بناؤ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۲۱۷) وبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۔ لوگ غیروں سے احسان کرتے ہیں۔ پر اپنوں سے نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔ رحم نے جناب النبی میں عرض کیا۔ تیرے نام رحمن ، رحیم میں بھی یہی مادہ موجود ہے میرا لحاظ رکھو ۔ اللہ نے فرمایا۔ میں تیرا ایسا خیال رکھوں گا۔ جو تجھے قطع کرے گا۔ میں اس سے قطع کر دوں گا۔ الصَّاحِبِ بِالْجَنب ۔ ایک سیٹ پر بیٹھنے والے ۔ ساتھ کے دکاندار ، ہم نشین ، ہم عہدہ ، ہم محکمہ، ہم دفتر ، ایک آقا کے دو ملازم ۔ ایک جہاز یاریل کے سوار۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مؤرخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۶)