حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 156 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 156

حقائق الفرقان ۱۵۶ سُورَةُ النِّسَاء انسان کی سعادت اور نجات کا انحصار علوم الہیہ پر ہے کیونکہ جب تک کتاب اللہ کا علم ہی نہ ہو وہ نیکی اور بدی اور احکام رب العالمین سے آگاہی اور اطلاع کیونکر پا سکتا ہے مگر تقوی ایک ایسی کلید ہے کہ کتاب اللہ کے علوم کے دروازے اسی سے کھلتے ہیں اور خو اللہ تعالیٰ متقی کا علم ہو جاتا ہے وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ الله انسان اپنے دشمنوں سے کس قدر حیران ہوتا اور اُن سے گھبراتا ہے لیکن مشتقی کو ↓ کیا خوف؟ اس کے دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں۔ إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلَكُمْ فُرْقَانَا ۔ اللہ تعالیٰ سے دوری اور بعد ساری نامرادیوں کی جڑ اور ناکامیوں کی اصل ہے مگر متقی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل : ۱۳۹) تقوای ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنے مولی کا محبوب بناتی ہے إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (التوبہ: ۴) تقوی کے باعث اللہ تعالی متقی کے لئے مکتفی ہو جاتا ہے اور اس سے ولایت ولایت ملتی ہے وَ اللهُ وَلِيُّ المُتَّقِينَ (الجالية: الجاثية : ۲۰) پھر تقویٰ ایسی چیز ہے کہ دعاؤں کو قبولیت کے لائق بنادیتا ہے۔ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ المُتَّقِينَ (المائدة: ۲۸) بلکہ اس کے ہر فعل میں قبولیت ہوتی ہے۔ غرض تقوای جیسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے اور تقوای نام ہے اعتقادات صحیحہ، اقوالِ صادقہ اعمال صالحہ ، علوم حقه ، اخلاق فاضلہ، ہمت بلند ، شجاعت ، استقلال، عفت ، حلم ، قناعت ،صبر کا، حسن ظن بالله تواضع ، صادقوں کے ساتھ ہونے کا۔ پس یہ تقوی اپنے رب کا اختیار کرو۔ رَبَّكُمْ میں بتایا ہے کہ وہ تمہیں کمالات بخشنے والا ہے ۔ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت تک پہنچانے والا ہے۔ اس کے متقی بنو۔ مخلوق کی نظر کا متقی نہیں۔ اگر انسان مخلوق کی نظر میں متقی بنتا ہے لیکن آسمان پر اس کا نام متقی نہیں تو یاد رکھو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا فتوی ہے مَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرۃ: ۹) ایک غلط خیال عام لے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اللہ تم کو سکھاتا ہے۔ ۲۔ اگر تم اللہ کو سپر بناؤ گے تو وہ تمہارے لئے ہر ایک کام میں ایک کھلا فیصلہ دے گا۔ سے کچھ شک نہیں کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے اور ان کے ساتھ جو اس کو دینے والے صاحب نظر نیکو کا رہیں ۔ کے بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو۔ ہے اور اللہ تو متقیوں ہی کا دوست ہے ۔ کے اللہ تو متقیوں کی ہی نیاز قبول فرماتا ہے۔ کہ وہ ماننے والوں میں نہیں۔ (ناشر)