حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 155
حقائق الفرقان ۱۵۵ سُورَةُ النِّسَاء وہ تعلق جو میاں بیوی میں پیدا ہوتا ہے بظاہر وہ ایک آن کی بات ہوتی ہے۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی لڑکی دی۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے لی۔ بظاہر یہ ایک سیکنڈ کی بات ہے مگر اس ایک بات سے ساری عمر کے لئے تعلقات کو وابستہ کیا جاتا ہے اور عظیم الشان ذمہ داریوں اور جواب دہیوں کا جوا میاں بیوی کی گردن پر رکھا جاتا ہے ۔ اس لئے اس سورۃ کو یا تیهَا النَّاسُ سے شروع کیا ہے۔ کوئی اس میں مخصوص نہیں ساری مخلوق کو مخاطب کیا ہے۔ مومن ، مقرب مخلص، اصحاب الیمین، غرض کوئی ہوکسی کو الگ نہیں کیا بلکہ یا ایها الناس فرمایا۔ النَّاسُ جو انس سے تعلق رکھتا ہے وہ انسان ہے۔ انسان جب اُنس سے تعلق رکھتا ہے تو سارے انسوں کا سرچشمہ میاں بیوی کا تعلق اور نکاح کا اُنس ہے اس کے ساتھ اگر ایک اجنبی لڑکی پر فرائض کا بوجھ رکھا گیا ہے تو اجنبی لڑکے پر بھی اس کی ذمہ داریوں کا ایک بوجھ رکھا گیا ہے اس لئے اس تعلق میں ہاں نازک تعلق میں جو بہت سی نئی ذمہ داریوں اور فرائض کو پیدا کرتا ہے کامل انس کی ضرورت ہے جس کے بغیر اس بوجھ کا اُٹھانا بہت ہی ناگوار اور تلخ ہو جاتا ہے لیکن جب وہ کامل انس ہو تو اس کی پاک رحمت اور فضل انسان کے شامل حال ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں ۔ غرض اس تعلق کی ابتدا اُنس سے ہونی چاہیے تا کہ دو اجنبی وجود متحد في الإرادت ہو جائیں اس لئے یا یهَا النَّاسُ کہہ کر اس کو شروع فرمایا اور دوسری آیت يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ سے شروع ہوتی ہے۔ لوگو! تقوی اختیار کرو۔ تقوای عظیم الشان نعمت اور فضل ہے جسے ملے ۔ انسان اپنی ضروریات زندگی میں کیسا مضطرب اور بیقرار ہوتا ہے خصوصا رزق کے معاملہ میں لیکن متقی ایسی جگہ سے رزق پاتا ہے کہ کسی کو تو کیا معلوم ہوتا ہے خود اس کے بھی وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ۔ يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ الطلاق : (۴) پھر انسان بسا اوقات بہت قسم کی تنگیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ متقی کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے جیسے فرما یا مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق : ٣) : لے اس کو وہاں سے رزق پہنچائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو۔ جو شخص ڈرتا ہے اللہ سے تو اللہ پیدا کر دے گا اس کے لئے کوئی راہ نجات۔ (ناشر)