حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 151
حقائق الفرقان ۱۵۱ سُورَةُ آل عِمْرَان اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (ال عمران : ۱۹۲) یعنی نشان ہیں دانشمندوں کے لئے جو یاد رکھتے ہیں ۔ اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے لیٹے اور تفکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں ۔ دیانند نے بھی لکھا ہے کہ رشی لوگوں کو مراقبوں ، سمادھوں وغیرہ سے یہ سچے علوم حاصل ہوتے ہیں ۔ غرض وہ تمام سچے علوم قرآن کریم میں مذکور ہیں جو انسان کی فلاح دنیوی واخروی کے لئے ضروری ہیں ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۰۸٬۳۰۷) ۱۹۴ - رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ - ترجمہ ۔ اور اے ہمارے پروردگار ! ہم نے ایک منادی کرنے والے ( یعنی پیغمبر ) کو سنا کہ ایمان کی منادی کر رہے تھے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے پس اے پروردگار ! ہم کو ہمارے قصور معاف فرما اور ہم ( پر ) سے ہمارے گناہ دور کر اور نیک بندوں کے ساتھ ہماری موت ہو۔ تفسیر كَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنا۔ یہ جب ہوگا کہ گناہ گناہ کی حد تک نہ پہنچے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۲) ١٩٦ - فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا يُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ ۚ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ أَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ أُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَتَلُوا وَقُتِلُوا لَا كَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيَّاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ - ترجمہ اُن کو (یوں ) جواب دیا کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو اکارت نہیں ہونے دوں گا مرد ہو یا عورت تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جن لوگوں نے ہمارے لئے (اپنے) دیس چھوڑے اور (ہماری ہی وجہ سے ) اپنے گھروں سے نکالے اور ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے ہم ان کی خطاؤں کو اُن ( کے نامۂ اعمال میں ) سے ضرور محو کر دیں گے اور اُن کو ایسے باغوں میں لے جائیں اور داخل کریں گے