حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 130
حقائق الفرقان ۱۳۰ سُورَةُ آل عِمْرَان ہو جاؤ ۔ اور بچو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لئے ۔ تفسیر۔ تھوڑی سی بات سے بڑی باتوں کا امتحان کیا جاتا ہے۔ اس زمانہ میں تو یہ مسئلہ صاف ہے کیونکہ ہر امر کے لئے امتحان لیا جاتا ہے۔ امتحان کے معنے ہیں کسی کی محنت کو جانچ لینا اور اس کا بدلہ دینا۔ ایک جگہ فرمایا ہے أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقوى الحجرات: ۴) پھر ایک امتحان کا ذکر بقرہ میں کیا ہے إِنَّ اللهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ (البقرة : ۲۵۰) ۲ ایسا ہی یہاں جہاد کے لئے ایک امتحان ہے کہ سود لینا چھوڑ دو کیونکہ بیاج خور مال میں وسعت حوصلہ سے کام نہیں لے سکتا اور جو مال خدا کی راہ میں نہیں چھوڑ سکتا وہ جان کیونکر دے گا۔ پس یہاں فرمایا کہ اول تو تم سود کو چھوڑو۔ ربو کے لفظ پر بعض لوگوں نے بحث کی ہے۔ کہتے ہیں کہ دیو کے معنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں کئے ۔ ان نادانوں سے کوئی پوچھے کہ کیا قرآن کے لفظ لفظ کے معنے حدیثوں میں آئے ہیں؟ جب خدا تعالیٰ ایک چیز کو حرام فرماتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کو خدا سے جنگ قرار دیتا ہے تو کیا وہ ایسا لفظ تھا جس کے معنے لغت عرب سے واضح نہ ہوتے ہوں ۔ نقدی کے اُو پر میعاد معینہ کے لحاظ سے زیادہ لینا شود کہلاتا ہے۔ ہاں بعض بار یک باتیں بھی ہیں جو عام فہم نہیں ہیں مگر تا ہم کوئی ایسی مشکل بات نہیں ۔ بعض نابکار لوگ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر کام نہیں چل سکتا حالانکہ بارہ سو برس ( بارہ سو برس میں نے اس لئے کہا کہ تیرھویں صدی میں مسلمانوں نے سود لینا شروع کر دیا ) کا تجربہ بتاتا ہے کہ بغیر سود کے سب کام چل سکتے ہیں۔ میں اس بات کا گواہ موجود ہوں کہ بغیر ربوا کے لینے اور دینے کے انسان تمام کام کر سکتا ہے۔ میں نے بھی ملازمت کی ۔ کاشت کاری بھی کی۔ تجارت بھی کی ۔ لاکھ لاکھ روپے کی تجارت کی مگر مجھے کبھی شود کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایسے ایسے وقت بھی مجھ پر گذرے ہیں کہ رات کو کھانے کے لئے سامان نہیں مگر پھر بھی میرے مولی نے میری دستگیری کی۔ ے وہی لوگ ہیں ۔ اللہ نے امتحان لیا ان کے دلوں کا تقوی کے لئے ۔ ۲ے اللہ آزمائے گا تم کو ایک نہر سے۔ (ناشر) -