حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 109
حقائق الفرقان ۱۰۹ سُورَةُ آل عِمْرَان ہو کر ہی مرو، فرمانبرداری جب ہو کہ جب فرمان ہو اور فرمان میں میں نے ابھی کہا ہے کہ اس دبد ہا اور شک کی گنجائش ہے کہ کسی نے دھوکا ہی نہ دیا ہو۔ اس مشکل کی راہ صاف کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے چند ضروری امور کو بیان فرمایا ہے جن سے آدمی حق و باطل میں فی الفور امتیاز کر لیتا ہے۔ میں اس کو ایک عام فہم طریق پر بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ سنو! ہر ایک چیز خواہ وہ دکھ دینے والی ہو یا سکھ ہو یا سکھ دینے والی دونوں کو ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا پاتے ہیں ۔ اگر تریاق کو پاتے ہیں تو سانپ بھی تو ہیں اگر عمدہ عمدہ دوائیں اور تجربہ کار ڈاکٹر اور حاذق طبیب موجود ہیں تو مہلک بیماریاں اور ناتجربہ کار احمق مدعی حکمت بھی پائے جاتے ہیں اور عمدہ عمدہ غلہ اور ترکاریاں پائی جاتی ہیں تو اپنے گھروں میں سنڈ اس اور پیشاب بھی ہے اور کب اختیار میں ہے کہ دونوں چیزوں کو یکساں طور پر استعمال کر کے سکھ اٹھا سکیں۔ آپ دیکھیں گے کہ دکھ یا سکھ دینے والی چیزوں میں باہم فرق کر کے ان کو الگ کر دیا گیا ہے۔ ایک کا نشاد کھ دیتا ہے لیکن ایک عمدہ اور مضبوط جوتا اس کو مسل دیتا ہے۔ پس کانٹوں سے سکھ دینے کے لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جو تا عمدہ چیز ہے اور سردی کی تکلیف میں سنجاب اور سمور اور پشمینہ اور روٹی کے لحاف کیسی آرام دہ چیزیں ہیں جو سردی کا مقابلہ کر سکتی ہیں اور ہم خوب سمجھ سکتے ہیں کہ یہ چیزیں سردی سے محفوظ رکھ سکتی ہیں نہ کہ برف اور اس پر سرد ہوا۔ اسی طریق پر اللہ تعالیٰ نے روحانی سکھوں اور ابدی راحتوں کا ذریعہ جب کہ اپنا فرمان اور رضا کا حصول رکھا ہے اور وہ بدوں ان لوگوں کے جو اس کی طرف سے آتے ہیں ظاہر نہیں ہوتی اس کی شناخت کے اسباب بھی ضرور ہی رکھ دیئے ہوں گے تا کہ سیچ اور جھوٹ میں صاف تمیز ہو سکے ۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور اس لئے آتے ہیں کہ ہم کو اس راہ کا ۔ راہ کا پتہ دیں جس پر چلنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاتا۔ اراضی ہو جاتا ہے ان میں اور اس مخلوق میں جو بچھوؤں سانپوں کی طرح دکھ دینے کو تیار رہتی ہے امتیاز اور تفریق کے ذریعے رکھ دیئے ہیں جن سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ راستبازکون ہے اور جھوٹا کون ہے؟ مگر ہاں سلیم دل اور حق کی تلاش کی پیاس ہو۔ موٹی عقل والا بھی جس طرح کانٹے کی تکلیف محسوس کر کے جوتا پہن لیتا ہے اور سردی کے لئے گرم کپڑا پہن کر آرام پاتا ہے۔ اندرونی دکھوں کو محسوس کرنے والا اور روح اور اخلاق کے علاج کو چاہنے والا