حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 106 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 106

حقائق الفرقان ١٠٦ سُورَةُ آل عِمْرَان نجات دے اور اس سوالی کو یا تو توفیق اور رزق عطا کر جو کسی گناہ کی وجہ سے تنگی کا زیر بار ہے۔ یا اگر اس کے گھر میں روپیہ ہے تو اس پر رحم کر کہ اس حرص کے عذاب سے نجات پاوے۔ پانچواں مظہر ہے تقوی کا رقاب، مثلاً قرضہ ۔ ڈگری غلامی والے کو دیوے۔ یہ تقوی کے مظہر ہیں اموال پر۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۹ تا ۱۱) ۔ اس آیت شریفہ کے آخر ارشاد فرمایا ہے۔ تم ایسی زندگی بسر کرو کہ تم پر موت آوے تو تم اس وقت اللہ کریم کے فرمانبردار رہو جیسے فرمایا لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران : ۱۰۳) اس تعلیم کو دیکھو اس میں مسلمانوں کو کس قدر مستعد اور تیار رہنے کی تاکید ہے۔ برادران ! موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ اس لئے ہر وقت مسلمان بنے رہوتا کہ جب موت آوے تم کو کوئی حسرت اور افسوس نہ ہو۔ گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ہدایت اس آیت میں کس خوبی کے ساتھ بیان کی ہے۔ پس غفلت چھوڑ دو کہ یہ مسلمان کی شان نہیں ہے۔ چلتے ، پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ، سوتے ، جاگتے غرض ہر حالت میں مسلمان بنے رہو۔ ( الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۶ ) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقْتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران : ۱۰۳) یا درکھو آج کا دن کل کے دن کی آمد کی تیاری کر رہا ہے۔ اس وقت شام کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ وقت جب تک نہ گزر جائے شام نہ ہوگی ۔ مرتے وقت غشی بھی ہوتی ہے۔ طب والے کہتے ہیں کہ اس وقت غشی کی حالت ہوتی ہے جبکہ گھر والے پکارتے ہیں کہ تم نے مجھے پہچانا ہے مرنے والا دیکھتا ہے مگر کہتا کچھ نہیں اس وقت وہ اسی غشی کی سی حالت میں ہوتا ہے۔ پس جبکہ انسانی زندگی کا ہر لمحہ موت کے قریب کر رہا ہے تو انسان کو چاہئے کہ اس کی تیاری کرے ۔ اس لئے اس آیت میں یہ ہدایت کی ہے کہ تقوی اختیار کرو اور ایسا تقوای جو تقوی اللہ کا حق ہے اور یاد رکھو کہ تمہیں ایسی حالت میں موت آوے کہ تم مسلمان ہو۔ چونکہ انسان کو معلوم نہیں کہ موت کی گھڑی کسی وقت آجاوے اس لئے اس آیت پر عملدرآمد اسی حالت اور صورت میں ہو سکتا ہے کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار رہے اور کامل متقی ہو۔ تقوی اللہ کیا ہے؟ عقائد صحیحہ ہوں اور ان کے عقائد کے موافق اعمال صالحہ ہوں۔ تقوای کا