حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 105
حقائق الفرقان ۱۰۵ سُورَةُ آل عِمْرَان مارا تھا فلاں نے مجھے گالی دی تھی وغیرہ وغیرہ۔ تو اس کا دل ایسے رشتہ داروں کو چیز دینے سے تعرض کرتا ہے۔ پر خدا کے حکم کے سامنے ان باتوں کی پرواہ نہ کر کے اس کی پرورش کرتا ہے یہ اس تقوی کا نتیجہ ہے۔ پھر ۲۔ اموال کے خرچ کرنے میں انسان یہ خیال کرتا ہے کہ یہاں سے مجھے بہت کچھ عوض میں ملے گا ۔ مجھے یہ عزت ملے گی اور خدا فرماتا ہے کہ قرابت کے بعد مال یتیموں کو دو ۔ کیونکہ یتیم سے تو بدلہ کی امید نہیں اور یہ مظہر بنتا ہے تقوی کا۔ ۔ پھر تیسری ایک اور جگہ ہے مال کے خرچ کرنے کی ۔ ایک شخص درزی ہے اور اس کے پاس سوئی دھاگہ اور قینچی نہیں وہ سکون کی حالت میں ہے کام نہیں کر سکتا۔ جب تک اس کے پاس سامان نہ ہو۔ پس سامان بنوا دینا مسکین کی خبر گیری ہے۔ ۴۔ پھر مسافروں کو مشکلات پیش آتے ہیں اور ہم ان مشکلات سے خوب واقف ہیں ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ہاتھ پھیلانے کی حقیقت کو بھی نہیں جانتے ۔ پس مسافر نوازی بھی تقوی کی راہ ہے پانچ ہی اصول تقوی کے بتلائے ہیں اور پانچ ہی ظاہر نتائج تقوامی کے بتلائے ہیں پھر سائل پر عجیب حالت ہے۔ ایک شخص سوال کرتا دوسرا اس کو کچھ دیتا تو نہیں پر کہتا کہ اس کے پاس تو ہزاروں روپیہ ہیں۔ پر یہ خیال نہیں کرتا کہ ہر ایک شخص کو دنیا میں کسی نہ کسی موقع پر ضرور سوال کی ضرورت پڑی ہے۔ سید عبد القادر جیلانی کہتے ہیں کہ جب سوالی آوے تو چار باتوں پر خیال کرلیا کرو ۔ ۔ کبھی تو مسئول کی جیب واقعی خالی ہے اور دے نہیں سکتا۔ ۲۔ کبھی جیب تو پر ہوتی پر بخل کی عادت اس کو نکالنے نہیں دیتی ۔ اسی طرح پھر سائل کی دو حالتیں ہیں ۔ ا۔ کبھی تو واقعی اس کے پاس کچھ نہیں اور وہ سوال پر مجبور ہوا ہے۔ اور کبھی اس کو ضرورت نہیں پر حرص نے دست سوال پڑھایا ہے۔ اب اگر یہ اس کو دیتا نہیں تو اس کا سوال لغو گیا۔ پس سید لکھتے ہیں کہ یہ شخص خدا سے استغفار کرے۔ قَوْلُ مَعْرُوفٌ وَ مَغْفِرَةٌ یہ مغفرت کے وہ معنے فرماتے ہیں۔ استغفار کہ یا الہی اگر کسی گناہ کی وجہ سے میری جیب خالی ہے تو اس کو پر کر ۔ یا بخل کی وجہ ہے تو مجھے اس عادت کے عذاب سے