حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 602 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 602

حقائق الفرقان doh سُورَةُ الْبَقَرَة نئی قسم کی بددعا د یا کرتی تھی ۔ وہ یہ کہتی لوہے کا جھاڑو لوہے کا جھاڑو ۔ مطلب یہ تھا کہ ایسا صفایا ہو کہ کوئی نام و نشان نہ رہے۔ اسی طرح گنوار زمیندار اپنے مویشیوں کے حق میں بد دعائیں دیتے ہیں ۔ ادھر فریق ثانی بھی ۔ اب اگر دونوں کی دعا ئیں خدا تعالیٰ سن لے تو ایک بھی نہ رہے۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ دعا ایک محنت ہے اور اپنے لئے ایک موت اختیار کرنا ہے۔ دعا جب ایک خاص نقطہ تک پہنچتی ہے تو اسے قبولیت کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔ بعض لوگ ورے ورے ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ نہیں ہوتا تو گھبرا اُٹھتے ہیں۔ پھر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس نکتہ معرفت سے بے خبر ہیں کہ دعا ضائع نہیں جاتی بلکہ اگر وہ مقصد حاصل نہ ہو تو اس کا فائدہ ضرور ہے کہ معاصی کے نتائج اور آنے والی بلاؤں سے بچا لیتی ہے۔ یہاں ان آیات میں جو مذکور ہے اس کی اصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل جب شرارت میں حد سے بڑھ گئے تو خدا تعالیٰ نے ان پر ذلت و مسکنت لیس دی۔ وہ بابل میں جلا وطن کئے گئے۔ پھر جب انہوں نے خدا کی طرف رجوع کیا تو ان میں حز قیل ، عزرا، دانیال سے برگزیدہ پیدا ہوئے ۔ حز قیل نے ان کے لئے بہت دعائیں کیں اور گھبرا کر پکار اٹھے کہ اب یہ مردہ قوم کب زندہ ہوگی ۔ یہ ویرانہ کب آباد ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو رو یا میں سب کچھ دکھایا۔ یہ ایک عام عنت اللہ ہے کہ جس بات کی تو رات میں تفصیل ہو قرآن شریف اس کی طرف اجمالی اشارہ کرتا ہے اور جس کا تو رات میں مجمل بیان ہو قرآن شریف اسے مفصل بیان کرتا ہے۔ اس قصہ کو تو رات میں خوب کھولا گیا ہے۔ وہاں حز قیل باب ۳ میں صاف لکھا ہے کہ آپ نے خواب دیکھا ایک وادی میں ہڈیاں بھری ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نبوت ( پیشگوئی) کرو۔ جو سچ بات ہو اس کی مثالیں بہت مل جاتی ہیں۔ چنانچہ اس طرز کی ایک رؤیا ابو حنیفہ کی بھی ہے کہ آپ نے دیکھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں ہڈیوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ معبرین زمانہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے علم میں ایک بے خبری کا مرض آگیا تھا آپ کے ذریعہ سے اب یہ دین از سر نو زندہ ہوگا۔ اماته الله کے متعلق میں یہ بھی سنائے دیتا ہوں کہ بعض وقت نبی امت کا قائم مقام ہوتا ہے