حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 494
حقائق الفرقان ۴۹۴ سُورَةُ الْبَقَرَة اللہ کے منشا کے ماتحت ہے ۔ اللہ تعالیٰ جو انبیاء کو بھیجتا ہے تو امن قائم کرنے کے لئے۔ یہ منشا نہیں ہوتا کہ لوگوں کو پکڑ کر مسلمان بنا ئیں بلکہ وہ لَا إِكْرَاةَ فِي في الدِّينِ (البقرۃ: ۲۵۷) کے ماتحت چلتے ہیں کیونکہ انسان اس وقت تک خدا کے نزدیک تو مومن نہیں ہوتا جب تک کہ دل سے ایمان نہ لائے ۔ اور پھر ضروری ہے کہ اس کے ایمان کے آثار اس کے ظاہری کاموں میں ہویدا ہوں اور کوئی اس کو روک نہ سکے۔ پس جہاد بھی اس وقت تک جائز ہے کہ مومن کفار کے فتنہ میں نہ رہے اور جو ایمان لا چکے ہیں وہ اپنی عبادت بلا کسی خوف و روک کے ادا کر سکیں ۔ وہ نفاق سے کام لینے پر مجبور نہ ہوں بلکہ يَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ اللہ کے لئے ان کا دین ہو اور کوئی فتنہ نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ (البقرة: (۲۱۸) شرارتیں اور فتنے اللہ کو ناپسند ہیں۔ پس اس وقت تک لڑائی جائز ہے کہ جب تک فتنہ رہے۔ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا (البقرة: ۲۱۸) یعنی وہ تم سے لڑتے رہیں گے جب تک کہ تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کر لیں ۔ پس جب یہ خوف جاتا رہے اور کفار بالا کراہ کسی مسلمان کو کافر نہ بنا سکتے اور فتنہ بازیوں سے ہٹ جائیں تو پھر تمہارے النبی حد بندی (امن ) کو توڑنے کا کوئی موقع نہیں مگر ان لوگوں کے لئے جو فتنہ ڈالتے رہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۳، ۳۴) وَ يَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ (الانفال: ۴۰) ۔ ظاہر و باطن لوگوں کا دین ایک ہو جائے ۔ مذہبی آزادی ہو۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۴۱) وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرة: ۱۹۴) - مقابلہ کرو یہاں تک کہ فتنہ اور شرارت نہ رہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۴) اس لئے لڑو کہ لوگ آزمائشوں اور دین میں پھیلائے جانے سے بچ جاویں اور ظاہر و باطن میں اے دین میں کچھ زبردستی نہیں۔ (ناشر)