حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 493
حقائق الفرقان ۴۹۳ سُورَةُ الْبَقَرَة سے بھی سخت تر ہے۔ اور کافروں سے مت لڑ وادب والی مسجد کے پاس جب وہ نہ لڑیں تم سے اُس جگہ پس اگر وہ تم سے لڑیں تو تم اُن کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے حق چھپانے والوں کی۔ تفسیر وَاقْتُلُوهُمْ - هم سے کون مراد ہیں؟ وہی جو الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ کے مصداق ہیں یعنی جو جنگ کرتے ہیں۔ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ قتل سے ایک نفس کا نقصان ہوتا ہے مگر فتنہ ایسی بلا ہے کہ اس میں قوم کی قوم ہلاک ہو جاتی ہے۔ بعض دفعہ ایک بچہ فتنہ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی مثال دیا سلائی سی ہے کہ پہلے ایک گرین بھی سلفر اس میں نہیں ہوتا مگر جب اسے گھسا کر کسی لکڑی سے لگاتے ہیں تو پھر بعض اوقات محلوں کے محلے بلکہ شہروں کے شہر جل جاتے ہیں۔ پس تم چھوٹی بات کو چھوٹ نہ سمجھو بلکہ بڑا سمجھو اور فتنوں سے بچتے رہو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۳) ۱۹۴ - وَ قُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَ يَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ ۔ ترجمہ ۔ اور لڑو ان سے تا کہ باقی نہ رہے فتنہ اور فساد مفسدوں کا اور ہو جائے اکیلے سچے اللہ ہی کا دین پھر اگر وہ باز آ جائیں تو پھر کسی قسم کی زیادتی نہیں مگر ظالموں ہی پر ۔ تفسير - وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَ يَكُونَ الدِّينُ لِلهِ ۔ یہ مسئلہ خوب یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ مذاہب کا ابطال نہیں چاہتا بلکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سارے جہان کو ایک مذہب پر قائم کر دیتا۔ فَلَوْ شَاءَ لَهَدْكُمْ أَجْمَعِينَ (الانعام: ۱۵۰) دوسرے مقام پر فرما یا کولا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَاتٌ وَمَسْجِدُ ( الحج : ۴۱) یعنی اگر اللہ آدمیوں کی ایک دوسرے سے مدافعت نہ کرتا رہتا تو عیسائیوں کی ، مسلمانوں کی ، مجوسیوں کی ، یہودیوں کی عبادت گاہیں منہدم ہو جاتیں ۔ جس سے معلوم ہوا کہ مذاہب کا اختلاف