حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 363
حقائق الفرقان ۳۶۳ سُورَةُ الْبَقَرَة اتباع اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے کہا کہ تم ہمارے فرمانبردار ہو جاؤ تو کہا حضور میں تو فرما مانبردار ہو چکا اور آپ کا پ کا کیوں فرمانبردار نہ بنوں آ۔ آپ تو رب العالمین ہیں ۔ ابراہیم فرمانبرداری کی نوعیت اور وجہ نہیں پوچھتا۔ حکم کے ساتھ ہی فرمانبرداری کا اقرار کیا ہے۔ یہاں تک ہی نہیں بلکہ وَ وَكَّى بِهَا إِبْرَاهِمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يُبَنِي إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرة : ۱۳۳) یعنی اسی فرمانبرداری کی ابراہیم نے اپنے بیٹے کو وصیت کی اور یعقوب نے بھی کہا کہ اے میرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دین کو برگزیدہ کیا ہے جو فرمانبردار بننے کا دین ہے۔ پس تم فرمانبردار ہو کر ہی مرو ۔ اسی ایک نکتہ پر سارے کمالات کا دارو مدار ہے۔ غرض فرمانبرداری کامل فرمانبرداری تمام سکھوں کی جڑ ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ انسانی اور جسمانی علوم سکھ کا موجب ہوتے ہیں تو جاودانی علوم کیوں جاودانی راحت کا ذریعہ نہ ہوں؟ میں اپنے تجربہ سے اور تمام راستبازوں کے تجربہ کے علم سے کہتا ہوں کہ جاودانی علوم سے متمتع ہونے والا کبھی گھبراؤ میں نہیں ہوتا۔ اتنا سکون راحت اسکیت کہنے والے کے سوا کسی اور کو نہیں مل سکتا۔ الحکم جلد ۱۴ نمبر ۱۱، ۱۲ مورخه ۲۸ مارچ دے را پریل ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷، ۱۸) b ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ صدق اور اخلاص کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ اسلِمُ قَالَ اسلمت (البقرة: ۱۳۲) اے ابراہیم تو فرمانبردار ہو جا عرض کیا حضور میں تو فرمانبردار ہو چکا۔ اسلم نہیں کہا اسْلَمْتُ کہا یعنی اپنا ارادہ رکھا ہی نہیں معا حکم الہی کے ساتھ ہی تعمیل ہو گئی ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۵ مورخه ۱۰ / فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) وَ مَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ ابْرُهِمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَ لَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا ۚ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ - إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ وَ وَصَّى بِهَا إِبْرَاهِمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يُبَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ - أَمْ كُنْتُمْ