حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 362
حقائق الفرقان ۳۶۲ سُورَةُ الْبَقَرَة اپنی گردن فرمانبرداری کے لئے رکھ دے۔ اپنی خواہش، اپنا ارادہ کچھ باقی نہ رہے اور یہی مومن ہونے کے معنے ہیں۔ اگر مسلمان مسلمان کہلا کر ، ایمان باللہ کا دعوی کر کے اللہ تعالیٰ کے احکام کا جوا اپنی گردن پر نہیں رکھتا اور اپنی خواہش اور ارادے کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی مرضی اور حکم کا پابند اور مطیع نہیں ہوتا تو اس کو اپنے اندر غور کرنا چاہیئے کہ اسلام اور ایمان کے لوازم سے اس نے کیا لیا۔ اور اس بات کا معلوم کرنا کہ آیا میں نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ اپنی جان اور مال کو بیچ دیا ہے یا نہیں بڑی صفائی کے ساتھ ہو سکتا ہے اور بہت ہی آسان ہے اگر وہ اپنے ارادوں ، اپنی خواہشوں، اپنے دوستوں ، اپنی ملکی رسم و رواج قومی عادات اور شعائر کو مقدم کرتا ہے اور الہی قوانین اور فرامین کی اتنی بڑی پرواہ نہیں کرتا کہ رسم و رواج یا سوسائٹی اور برادری کے اصولوں پر اللہ تعالیٰ کی باتوں کو مقدم کرلے تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے کچھ بھی نہیں بیچا یا کہو کہ مومن اور مسلمان کہلانے کے ساتھ اپنی جان و مال کو بیچ کر بھی اس پر نا جائز تصرف کیا ہے۔ پس یہ بہت خطرناک اور نازک مقام ہے ۔ مسلمان یا مومن باللہ کہلا نا آسان ہو تو ہو مگر بننا کاری دارد ۔ مسلمان بننے کا نمونہ ابراہیم علیہ السّلام کی زندگی میں دیکھو ۔ اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعُلمین پھر مسلمان بننے کا کامل نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مشاہدہ کرو۔ لا غرض مومنوں کے جان و مال اللہ تعالیٰ نے خرید لئے ہیں اور اس کے معاوضہ معاوضہ میں وہ فوز عظیم اور وہ عظیم الشان ابدی راحت اور آسائش کا مقام اس نے دیا ہے جس کو جنت کہتے ہیں ۔ اب جبکہ مومن اپنے ایمان کے اقرار کے ساتھ اپنے جان اور مال بیچ چکے تو پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ان کے خرچ کرنے سے مضائقہ کیا ؟ ؟ الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۱) إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ ( البقرة : ۱۳۲) ایک ہی نکتہ ہے اور وہ کامل