حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 221
حقائق الفرقان ۲۲۱ سُورَةُ الْبَقَرَة اب ہر دو آیہ کریمہ کے معنی بتاتے ہیں مگر اتنا اور یادر ہے کہ یہاں جناب الہی نے أَخَذَتْكُمُ الصعِقَةُ فرمایا ہے أَهْلَكَهُمُ الصَّاعِقَةُ نہیں فرمایا پھر اس کے ساتھ بتایا ہے کہ وَ انْتُمْ تنظرُونَ اِس کے کیا معنے کہ جنہیں بجلی یا صاعقہ نے پکڑا وہ دیکھ رہے تھے ۔ لہذا اس آیت شریفہ أَخَذَتْكُمُ الصُّعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (البقرة : ۵۶) کے یہ معنی ہوئے کہ تم کو خاص صاعقہ نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ خاص کا ترجمہ ہم نے لفظ ال سے لیا ہے جو الصَّاعِقَہ کے پہلے ہے اور اس صاعقہ سے مراد وہ صاعقہ ہے جو رجعت کے وقت انتشار انتشار کہ کرتی ہے اور اور دوسری دوسری آیت آ کریمہ کا ترجمہ یہ ہے ثُمَّ بَعَثْنَكُم مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمُ (البقرۃ: ۵۷) پھر اٹھایا ہم نے تم کو تمہاری موت کے بعد ۔ چونکہ موت کے معنی میں دکھ اور تکلیف بھی آیا ہے اس لئے یہاں تکلیف ہی لیں گے کیونکہ معانی مختلفہ میں حسب قرینہ و امکان معنی لئے جاتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم صاعقہ میں سخت مبتلا ہوئی اور امید زیست نہ رہی اور ایک قسم کی موت ان پر طاری ہو گئی تو جناب موسیٰ کی اس قوم پر الہی رحم ہوا اور آخر وہ بچ گئی۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۲۱۳ تا ۲۱۷) پھر تم نے اس کے بعد ایک بڑی بھاری گستاخی یہ کی کہ تم نے موسیٰ کو یہ کہا ۔ اے موسیٰ ! ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ تو ہم کو صاف طور پر خدا کا چہرہ نہ دکھلا دے۔ پھر تم کو بجلی کے عذاب نے پکڑ کر بیہوش کر دیا اور تمہاری حالت مردوں جیسی ہو گئی مگر ہم نے پھر تم سے اُس غشی کو دور کر دیا تا کہ تم شکر کرو۔ نرى الله - ظاہراً ۔ علانیہ۔ بعض طبائع الہامات نبی کو سن کر یہ خواہش کیا کرتی ہیں کہ کاش ہم کو بھی رویاء ۔ الہام ہونے لگے ۔ صَاعِقَةُ ۔ ایک قسم کی غشی یا مہلک عذاب ۔ پھر تمہاری اس خطاء سے بھی درگزر کر کے تم پر یہ اپنا فضل کیا کہ تم کو بلاکسی محنت و مشقت برداشت کرنے کے اعلیٰ درجہ کا کھانا اور تمہاری صحت کے لئے جنگل کی تازہ ہوا دی ۔ تم کو آزاد کیا