حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 220 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 220

حقائق الفرقان ۲۲۰ سُورَةُ الْبَقَرَة ۱۰ ۔ اور آیا ہے اللبن لا يموت زندہ سے جو جز و الگ ہو وہ مردہ ہے مگر دودھ ۔ بال ۔ اُون مردہ نہیں ہوتے ۔ یہ موت کے معنے ہوئے اور اسی طرح مُفردات راغب میں موت کے بہت معنی بتائے ہیں ۔ اور تیسر ا لفظ بعث کا ہے۔ (۱) بعث کے معنی بھیجنا۔ قرآن میں ہے وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا (النحل: ۳۷) ۲۔ اُٹھانا ۔ قرآن میں ہے ثُمَّ بَعَثْنَهُم ، ثُمَّ بَعَثْنَهُم ٣ ( الكهف : ١٣ ) حديث : یث میں ہے فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ (صحیح بخاری، کتاب التیمم باب نمبر ا روایت نمبر ۳۳) متوجہ کرنا ۔ قرآن میں ہے وَلكِنْ كَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُم (التوبة: ۴۶) لیکن خدا نے انہیں متوجہ کرنا نہ چاہا۔ لد ۴۔ جگا دینا ۔ آتانی اتِيَانِ فَبَعَثَانِي أَنْ أَيْقَظَانِي مِنَ النَّوْمِ ۔ انہوں نے مجھے نیند سے جگایا۔ ۵۔ بھڑک اُٹھنا ۔ قرآن میں ہے اِذِ انْبَعَثَ اَشْقُهَا (الشمس: ۱۳) جب کہ انہیں کا بڑا بد بخت بھڑک اُٹھا۔ اور بعث بمقابلہ موت کے بھی ہوتا ہے اس لئے جس قدر موت کے معنی ہیں ان کے مقابلہ میں بعث ہوگا۔ قرآن میں ہے بَعَثْكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ (البقرة: ۵۷) صَاعِقَہ ۔ موت اور بعث کے معنی جب معلوم ہوئے اور سمجھے گئے تو معلوم رہے کہ صاعقہ کے دو طریق ہیں ۔ اس کا آنا اور گرنا ۔ اس میں تو نقصان کم پڑتا ہے اور ایک دو تین سے زیادہ آدمی اس میں نہیں مرتے ۔ دوسرا واپس ہونا اور اس کا انتشار کرنا۔ واپسی کے وقت بجلی یا صاعقہ بہت لوگوں کو دکھ دیتی ہے، غشی ہوتی ، ہڈیاں ٹوٹتی ، نقاطات نکلتے ہیں۔ لے دودھ مردہ نہیں ہوتا۔ ہے ہم نے بے شک ہر ایک امت میں رسول بھیجے ۔ سے پھر ہم نے اُن کو اٹھایا۔ پھر ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا۔ ۵ لیکن اللہ ہی نے ناپسند کیا ان کا اٹھنا ۔ (ناشر) ہے اس موت کی حالت سے تم کو ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ (ناشر)