حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 180
حقائق الفرقان ۱۸۰ سُورَةُ الْبَقَرَة فتح تفسیر مدارک میں ہے وَ إِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا (البقرة: ۳۵) أَيْ أَخْضَعُوا لَه وَأَقَرُّوا بِالْفَضْلِ لَهُ (تفسير النسفی المسمى بمدارک زیر آیت سورة البقرة: ۳۵) غرض آدم علیہ السلام وہاں رہے اور ہر طرح اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرتے رہے اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا تھا کہ انگور یا الشجر اور انجیر کے پاس بھی نہ جانا۔ وَ قُلْنَا يَادَمُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُهَا وَلَا تَقْرَبَا هُذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِينَ " (البقرة: ٣٦) سعید بن جبیر سدی۔ شعبی۔ جعدہ بن ہبیرہ محمد بن قیس عبداللہ بن عباس۔ مرہ ابن مسعود اور کئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہی قول ہے کہ وہ انگور کا درخت تھا۔ مدارک میں لکھا ہے کہ یہی درخت ا تمام فتنوں کی جڑھ ہے اور منذر بن سعید نے اپنی تفسیر میں ایسا ہی لکھا ہے جیسے امام ابن قیم نے حادی الارواح میں بیان کیا اور وہ جنت جس میں آدم علیہ السلام رہے وہ زمین پر تھا غور کرو دلائل ذیل پر۔ وَالْقَوْلُ بِأَنَّهَا جَنَّةٌ فِي الْأَرْضِ لَيْسَتْ بِجَنَّةِ الْخُلْدِ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةً وَأَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَهُذَا ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَ أَنَّ لَكَ أَنْ لَّا تَجُوعَ فِيهَا وَ لَا تَعْرَى قَالَ يَعْنِي فِي الْأَرْضِ وَ ابْنُ عُيَيْنَةِ إِمَامٌ وَابْنُ نَافِعٍ إِمَامٌ وَهُمْ أَي الْمُنْكِرُونَ) لَا يَأْتُونَنَا بِمِثْلِهِمَا - اور امام ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں فرمایا ہے۔ خَلَقَ آدَمَ وَزَوْجَهُ ثُمَّ تَرَكَهُمَا وَقَالَ اعْتَمِرُوا وَأَكْثِرُوا وَامْلَثُوا الْأَرْضَ وَتُسَلِّطُوا عَلَى ے اس کی فرمانبرداری کرو اور اسی کے لئے ہر فضیلت کا اقرار کرو۔ ہے اور ہم نے کہا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور جہاں چاہو اس میں سے کھاؤ۔ پر اس درخت کے قریب نہ جائیں کہ گناہگار ہو جاؤ گے۔ (ناشر) 66 اور یہ قول کہ: ” وہ جنت زمین پر ہے، اس سے مراد جنت خُلد یعنی ہمیشہ رہنے والی جنت نہیں ہے۔ یہ ابو حنیفہ اور آپ کے رفقاء کا قول ہے۔ اور ابن عیینہ کے مطابق فرمانِ الہی : وَأَنَّ لَكَ أَنْ لَا تَجُوْعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَى ( کہ اس میں تو بے خوراک و بے پوشاک نہ ہوگا) یعنی اس سرزمین میں۔ اور یادر ہے کہ ابن عیینہ اور ابن نافع ایسے امام ہیں جن کی مثال منکرین کے پاس نہیں ہے۔ (حادی الارواح، امام ابن قیم، الباب الثاني ) (ناشر)