حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 179
حقائق الفرقان ۱۷۹ سُورَةُ الْبَقَرَة العلوم کتاب قرآن کریم اس بارے میں حکم دیتی ہے۔ اَطِیعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم (النساء : ٢٠) تمام مذاہب میں یہ امر مسلم ہے کہ عبادت نام ہے اللہ تعالیٰ کی آگیا کے پالن کرنے یعنی اس کا فرما نبردار ہونا ۔ جب باری تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو آدم کو سجدہ کرنا اور اس کی آگیا کا پالن کرنا در حقیقت باری تعالیٰ کی جناب کو سجدہ تھا نہ آدم کو ۔ سچ ہے مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله (النساء: (۸) اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے خلفاء کی فرمانبرداری بھی خود اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے اور حکام وقت کے بھلے حکموں اور اچھے ارشادوں کی اطاع اطاعت حضرت حق سبحانه وتعالی کی ہی اطاعت ہوا کرتی ہے۔ سجدہ کا لفظ اسلامی شرع میں ایک وسیع لفظ ہے اس کے معنے سمجھنے کے لئے ان آیات و محاورات پر غور کرو۔ وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (النحل : ٥٠) وَ لِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (الرعد: ١٦) لد سجدہ کا لفظ عرب کی لغت میں انقیاد اور فرمانبرداری کے معنے دیتا ہے۔ زید الخیل عرب کا ایک مشہور شاعر ایک قوم کی بہادری کا تذکرہ کرتا ہے اور کہتا ہے اس بہادر قوم کے سامنے ٹیلے اور پہاڑ سب سجدہ کرتے ہیں یعنی فرمانبردار ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی اس قوم کو روک نہیں سکتی ۔ يجمع تَضِلُّ الْبَلْقَ فِي حُجُرَاتِهِ وَتَرَى الأَكْمَ فِيهَا سُجَّدًا لِلْحَوَافِرِه وَالشَّجُودُ التَّذَلُّلُ وَالْإِنْقِيَادُ بِالسَّعْيِ فِي تَحْصِيلِ مَا يَئُوطُ بِهِ مَعَاشَهُمْ ! لے اللہ اور رسول کی اور حاکموں کی اپنے اطاعت کرو۔ ۲ جس نے اس رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ سے آسمانوں اور زمین کی اشیاء اللہ کو سجدہ کرتی ہیں ۔ ۴ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اللہ کو سجدہ کرتے تے ہیں۔ ۵ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ جس میں کناروں لشکر کے ساتھ جس میں کناروں تک بلق گھوڑے ( چتکبرے گھوڑے ) گم ہو جاتے ہیں ۔ ان گھوڑوں کے آگے پہاڑ اور ٹیلے سب سجدہ کرتے ہیں ۔ اس چیز کے حاصل کرنے کے لئے جس سے ان ( لوگوں ) کی معاش وابستہ ہے۔ کوشش کر کے فرمانبرداری اور تذلل اختیار کرنا سجود ہے۔ (ناشر)