حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 8
حقائق الفرقان سُورَةُ الْفَاتِحَةِ تمہید سُوْرَةُ الْفَاتِحَةِ مَكَّيَّةٌ اس سورہ شریف کی بہت سی تفاسیر لوگوں نے لکھی ہیں ۔ ہمارے گھر میں اس سورۃ کی ایک قلمی تفسیر بار یک لکھی ہوئی ساٹھ جزو کی تھی۔ حضرت صاحب ( مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ) نے تین 66 مبسوط تفسیریں اس سورہ شریف پر لکھی ہیں جن میں سے ایک اُردو میں ہے اور کتاب برامین احمد یہ میں ہے اور دو عربی زبان میں ہیں۔ ایک کا نام ” کرامات الصادقین ہے اور دوسری کا نام ” اعجازا" اعجز کا نام ” اعجاز المسیح ،، ہے۔ وہ بڑا خوش قسمت ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ کم از کم ان تفاسیر کا مطالعہ کرے۔ کہ وہ کم از کم ان تفاسیر کا مطالعہ کرے میں اس امر کی طرف تم کو خاص توجہ دلاتا ہوں ۔ جو عربی نہیں جانتے وہ کم از کم اُردو کو پڑھ لیں ۔ عبدہ مصری نے بھی ایک کتاب سورہ فاتحہ کی تفسیر میں الگ لکھی ہے اور ایک ضخیم کتاب سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں صدر الدین قنوی نے لکھی ہے۔ فاتحہ خلف الامام بچپن سے لے کر اس بڑھاپے تک جو کچھ میں نے تحقیقات کی ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے۔ (خواہ انسان الگ نماز پڑھتا ہو خواہ جماعت کے ساتھ کسی امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو ہر دو صورتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی عمل درآمد تھا۔ ایڈیٹر ) ۔ تعداد رکعات چونکہ سورہ فاتحہ کا ہر رکعت میں پڑھنا ضروری ہے اس واسطے ایک مسلمان دن رات میں سورۂ فاتحہ عموماً ۸۰ بار پڑھتا ہے یا کم از کم ۴۰ بار ۔ کیونکہ رکعات کی تفصیل یہ ہے۔