حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 6 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 6

حقائق الفرقان حالانکہ یہ وہ کام ہے جو ہمارے ملک میں تو میراثی کرتے ہیں اس کے مقابل میں قرآن مجید شروع ہوتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے ۔ یہ وہ آیت ہے جس سے تمام مذاہب باطلہ کا رڈ ہوتا ہے۔ نہ یسوعیوں کا خدا وند اقنوم ثالث رہ سکتا ہے نہ رحم بلا مبادلہ کے بہانے سے کسی بے گناہ کو پھانسی چڑھانا پڑتا ہے اور نہ آریوں کا ماده وروح ازلی و ابدی بن سکتا ہے اور نہ تناسخ والوں کی کوئی دلیل باقی رہتی ہے جس کا رڈ اس سے نہ ہو سکے ۔ نہ سوفسطائیوں کو بولنے کی تاب ہے اور نہ برہموؤں کو مسئلہ الہام میں تردد رہ سکتا ہے اور نہ شیعہ صحابہ کرام پر اعتراض کر سکتے ہیں نہ دہر یہ کسی حجت نیرہ کی بنا پر خدا کی ہستی کے منکر رہ سکتے ہیں۔ یہ تو ایک آیت کے متعلق ہے اگر سات آیتیں پڑھی جاویں تو پھر تمام مذاہب کی صداقتوں کا عطرِ مجموعہ اس میں ملتا ہے اور دنیا کے آخر تک پیش آنے والے دینی اہم واقعات کی خبر اس میں موجود ہے۔ چنانچہ نصاری کے اس غلبہ اور مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی بھی موجود ہے۔ ان تمام مفاسد و عقائد فاسدہ کا ابطال ہے جو دنیا میں پیدا ہوئے یا ہو سکتے ہیں اور ان اعمال صالحہ و عقائد صحیحہ کا تذکرہ ہے جو انسان کی روحانی و جسمانی ترقیات کے لئے ضروری ہیں۔ اسی طرح انجیل کا اخیر دیکھو اس میں لکھا ہے کہ یسوع جو خداوند کہلاتا تھا اپنے دشمنوں کے قبضے میں آگیا اور اُس نے ایلی ایلِي لِمَا سَبَقْتَانِی ( یعنی اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ) کہتے ہوئے اپنی جان دی۔ برخلاف اس کے قرآن مجید ختم ہوتا ہے۔ اعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ - الهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ قرآن مجید پڑھنے والا ۔ قرآن شریف کا متبع بڑے زور سے علی الاعلان دعوی کرتا ہے۔ میں اس خدا کی پناہ میں ہوں جو تمام انسانوں کو پیدا کرنے والا اور پھر انہیں کمال تک لے میں لوگوں کے رب کا آسرا لیتا ہوں ۔ لوگوں کے بادشاہ کی پناہ لیتا ہوں ۔ لوگوں کے برحق و سچے معبود کی حفاظت میں آنا چاہتا ہوں ۔ شیطان چھپنے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے مرکز قومی اور سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے ۔ وہ بڑے آدمیوں میں سے ہو یا غریب آدمیوں میں سے جن ہو یا آدمی (اے اللہ بدنام نہ کرتا پھرے وہ وسواس ڈال کر خناس) ۔ (ناشر)