نصائح مبلغین — Page 10
10 کھولا تو معلوم ہوا کہ دوسو روپیہ ہے۔تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی حا<mark>جا</mark>ت کو جو <mark>اس</mark> پر توکل رکھتے ہیں <mark>اس</mark> طرح پورا کیا <mark>کر</mark>تا ہے۔تم کبھی دوسرے پر بھر وسانہ رکھو۔سوال ایک زبان سے ہوتا ہے اور ایک نظر سے۔تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ <mark>کر</mark>و۔پس جب تم ایسا <mark>کر</mark>و گے تو پھر خدا تعالیٰ خود سامان <mark>کر</mark>ے گا۔<mark>اس</mark> صورت میں جب کو ئی تمہیں کچھ دیگا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپر سمجھے گا۔<mark>لوگ</mark>وں سے تعلقات مبلغ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خادمانہ حیثیت رکھے۔<mark>لوگ</mark>وں نے یہ نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔بعض نے سمجھا کہ نو<mark>کر</mark> چا<mark>کر</mark>وں کی طرح کام <mark>کر</mark>ے۔یہ مراد نہیں۔<mark>اس</mark> غلط نہی کی وجہ سے ملانے پیدا ہوئے جن کے کام مُردے نہلا نا ہوا <mark>کر</mark>تا ہے۔کوئی بیمار ہو <mark>جا</mark>ئے تو کہتے ہیں بلاؤ میاں جی کو وہ آ<mark>کر</mark> <mark>اس</mark> کی خدمت <mark>کر</mark>یں۔کھیتی کاٹنی ہو تو چلو میاں جی۔گو یا میاں جی سے وہ نائی دھوبی جس طرح ہوتے ہیں <mark>اس</mark> طرح کام لیتے ہیں۔دوسری صورت پھر پیروں والی ہے۔پیر صاحب چار پائی پر بیٹھے ہیں، <mark>کسی</mark> کی م<mark>جا</mark>ل نہیں کہ پیر صاحب کے سامنے چار پائی پر بیٹھ <mark>جا</mark>وے۔حافظ صاحب سناتے تھے ان کے <mark>والد</mark> بھی بڑے پیر تھے <mark>لوگ</mark> <mark>ہمیں</mark> آ<mark>کر</mark> <mark>سجدے</mark> کیا <mark><mark>کر</mark>تے</mark> تھے۔تو میں نے ایک دفعہ اپنے باپ سے سوال کیا کہ ہم تو <mark>مسجد</mark> میں <mark>جا</mark> <mark>کر</mark> <mark>سجدے</mark> <mark>کسی</mark> اور کے <mark>آگے</mark> <mark><mark>کر</mark>تے</mark> ہیں اور یہ <mark>لوگ</mark> <mark>ہمیں</mark> <mark>سجدے</mark> <mark><mark>کر</mark>تے</mark> ہیں <mark>اس</mark> پر <mark>میرے</mark> <mark>والد</mark> نے ایک <mark>لمبی</mark> <mark>تقریر</mark> کی۔تو ایک <mark>طرف</mark> کا نتیجہ