نصائح مبلغین — Page 9
9 کو خواب دکھاتا ہے <mark>اس</mark> طرح <mark>اس</mark> کی ضرورت پوری <mark>کر</mark>تا ہے۔لیکن کبھی <mark>اس</mark> طرح پر بھی ہوتا ہے کہ وہ ضرورت ہی نہیں رہتی۔ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ <mark>اس</mark> کی ضروریات ہی نہیں بڑھتیں اور اگر ضروریات پیش آتی ہیں تو پھر ایسے سامان کئے <mark>جا</mark>تے ہیں کہ وہ مٹ <mark>جا</mark>تی ہیں۔مثلاً ایک شخص بیمار ہے، اب <mark>اس</mark> کے لئے دوائی وغیرہ کے لئے روپوں کی ضرورت ہے۔دعا کی ، بیمار ہی اچھا ہو گیا تو اب روپوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔تو ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔پہلی حکمت یہ ہے کہ وہ <mark>لوگ</mark>وں کا محتاج ہی نہیں ہوتا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ <mark>لوگ</mark>وں کا رجوع <mark>اس</mark> کی <mark>طرف</mark> ہو <mark>جا</mark>تا ہے۔خدا خود <mark>لوگ</mark>وں کے ذریعے سے سامان <mark>کر</mark>اتا ہے۔ہمارے سلسلے کے علماء اور دوسرے مولویوں کا مقابلہ <mark>کر</mark> کے دیکھ لو ان کو <mark>لوگ</mark> خود نذر پیش <mark><mark>کر</mark>تے</mark> ہیں۔اور مولوی مانگتے پھرتے ہیں۔ایک پیر تھا وہ ایک اپنے مرید کے گھر گیا وہ مریدا سے جب وہ آتا تھا ایک روپیہ دیا <mark>کر</mark>تا تھا۔<mark>اس</mark> دن <mark>اس</mark> نے ایک اٹھنی پیش کی۔پیر نے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں تو رو پیدلوں گا۔غرض وہ اٹھنی دیتا تھاوہ روپیہ مانگتا تھا۔بہت ت<mark>کر</mark>ار کے بعد <mark>اس</mark> مرید نے کہا <mark>جا</mark>ؤ میں نہیں دیتا۔تمام رات وہ پیر باہر کھڑا رہا رات کو بارش ہوئی تھی <mark>اس</mark> میں بھیگا۔صبح کہنے لگا کہ اچھالا ؤ ٹھنی۔تو یہ حالت ہوتی ہے جو دوسروں کے محتاج ہیں۔زلزلے کا ذ<mark>کر</mark> ہے باہر باغ میں ہم ہوتے تھے۔حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی۔فرمانے لگے قرض لے لیں پھر فرمانے لگے قرضہ ختم ہو <mark>جا</mark>ئے گا۔تو پھر کیا <mark>کر</mark>یں گے چلو خدا سے مانگیں نماز پڑھ <mark>کر</mark> جب آئے تو فرمانے لگے ضرورت پو ری ہو گئی۔ایک شخص بالکل میلے کچیلے کپڑوں والا نماز کے بعد مجھے ملا۔السلام علیکم <mark>کر</mark> کے <mark>اس</mark> نے ایک تھیلی نکال <mark>کر</mark> دی۔<mark>اس</mark> کی حالت سے میں نے سمجھا کہ یہ پیسوں کی تھیلی ہوگی