مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 92

مواهب الرحمن ۹۲ اردو ترجمہ ثم فكرُ في جوابه، أصدق أم كذب لِلنَّاسِ پر غور کر اور پھر غور کر! کہ کیا ان لوگوں کے اس باطل خیال کی بناء پر جو شیطانی وساوس کی بناء على زعم قوم يرجعونه من وسواس الخنّاس؟ فإنه إن كان وجہ سے اس ( عیسی ) کو دوبارہ اس دنیا میں واپس حقــا أن يرجع عيسى قبل يوم لا رہے ہیں ، اس نے اپنے جواب میں سچائی اختیار کی یا جھوٹ سے کام لیا ؟ اگر یہ سچ ہے کہ الحشر والقيام، ويكسر الصليب عیسی یوم حشر اور روز قیامت سے پہلے دنیا میں ويدخل النصارى في الإسلام فكيف يقول إني ما أعلم ما صنعت أمتى بعد رفعي إلى السماء ؟ وكيف يصح منه هذا القول مع أنه اطلع على شرك دوبارہ آئے گا، کسر صلیب کرے گا اور عیسائیوں کو اسلام میں داخل کرے گا تو پھر وہ کس طرح یہ کہے گا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے آسمان کی طرف رفع کے بعد میری امت نے کیا کچھ کیا۔ اور اُس کا یہ قول کیسے درست ہو سکتا ہے جبکہ زمین پر واپس النصارى بعد رجوعه إلى الغبراء آنے کے بعد اسے عیسائیوں کے شرک کا خوب علم واطلع على اتخاذهم إياه وأمه ہو چکا ہوگا۔ اور یہ بھی اسے معلوم ہو چکا ہو گا کہ الهين من الأهواء ؟ فما هذا ان ( عیسائیوں ) نے انہیں اور ان کی والدہ دونوں الإنكار عند سؤال حضرة كو اپنی نفسانی خواہشات کے تابع اپنا معبود بنالیا الكبرياء إلا كذبا فاحشا وترك تھا ۔ اس طرح تو خدائے بزرگ و برتر کے سوال الحياء ۔ والعجب أنه كيف لا کے موقع پر اس کا انکار کرنا پر اس کا انکار کرنا صریح فحش ، جھوٹ اور يستحى من الكذب العظيم ترک حیا ہوگا ۔ نیز تعجب ہے کہ اتنے بڑے جھوٹ ويكذب بين يدى الخبير العليم ! سے وہ کیسے نہ شرمائے گا۔ اور وہ بھی خبیر و علیم خدا مع أنه قد رجع إلى الدنيا وقتل کے روبرو کذب بیانی کرے گا جبکہ وہ دنیا میں النصارى وكسر الصليب و واپس آیا، عیسائیوں کو قتل کیا ، صلیب کو توڑا ، اور لے اور (یاد کرو) جب اللہ عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا۔ (المائدة : ۱۱۷)