مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 75

مواهب الرحمن ۷۵ اردو ترجمہ يتبعون إلا الظن و ليس الظن عما يفعل وهم يُسألون۔ يسمون کے متعلق اس سے پرسش نہیں کی جاتی جبکہ اُن المسيح حَكَمًا ثم أنفسهم سے پرسش کی جائے گی۔ وہ نام تو مسیح موعود کا يحكمون أمر أم رأوا فى القرآن ما حَكَم رکھتے ہیں لیکن اپنے آپ کو حکم بنا لیتے يزعمون؟ فليخرجوه لنا إن كانوا ہیں۔ کیا وہ اپنے مزعومہ عقیدہ کو قرآن میں پاتے يصدقون ۔ يا أسفا عليهم ! إن ہیں؟ اگر وہ سچے ہیں تو اسے ہمارے سامنے پیش کریں۔ اُن پر افسوس کہ وہ محض ظن کی پیروی شيئا إذا خالفه المرسلون۔ بل کرتے ہیں ایسے ظن کی کوئی حیثیت نہیں جو يحكمون أنفسهم في الله ورسله ويصرون على ما مرسلوں کے قول کے خلاف ہو۔ بلکہ وہ اللہ اور اس ويجترء ون، ويـ ليس لهم به علم ولا يخافون کے رسولوں کے متعلق اپنے آپ کو حکم بناتے ہیں ومن العجب أنهم ينتظرون اور بیبا کی دکھا رہے ہیں اور جس کا انہیں علم نہیں الحكم ثم يقولون إنهم من الزلل اس پر مصر ہیں اور ڈرتے نہیں ۔ تعجب کی بات ہے لمحفوظون ! ولا يريدون أن کہ وہ حکم کا انتظار کرتے ہیں لیکن پھر بھی کہتے ہیں يتركوا قولا من أقوالهم۔ فما يفعل کہ وہ لغزشوں سے محفوظ ہیں ۔ وہ ا پنی کسی بات کو الحكم إذا جاء هم، فإنهم چھوڑ نا نہیں چاہتے پس حکم کیا کرے گا جب وہ بزعمهم في كل أمر مصيبون۔ وإن ظهور المسيح من هذه الأمة، ليس أمر يعسر فهمه على ذوى الفطنة، بل تظهر دلائله اُن کے پاس آئے گا کیونکہ بزعم خویش وہ ہر معاملہ میں صائب الرائے ہیں ۔ اس امت میں سے مسیح کا ظہور ایسا معاملہ نہیں جس کا سمجھنا عقلمندوں کے عند التأمل في المقابلة، أعنى لئے مشکل ہو۔ بلکہ (اس) مقابلہ یعنی سلسلہ محمد یہ عند موازنة السلسلة المحمدية اور سلسلہ اسرائیلیہ کے موازنہ پر غور کے وقت اس بالسلسلة الإسرائيلية ، ولا شك (دعوى ) کے دلائل ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ اور بلاشبہ أن سيدنا سيد الأنام وصدر ہمارے آقا سردار دو جہاں بانٹی اسلام ( حضرت الإسلام، كان مثيل موسى محمد مصطفی اصل مثیل موسیٰ ہیں ۔ ٦٠