مواہب الرحمٰن — Page 29
مواهب الرحمن ۲۹ اردو ترجمہ إنهم مروا بنا معترضين قبل إيفاء سے غافل ہو گئے اور موقع ومحل کا تقاضا پورا کرنے الموضع حقه، ورأوا بَدْرَنا ثم سے پہلے ہی وہ اعتراض کرتے ہوئے ہم پر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے ہمارا بدر کامل دیکھا اور اُسے دو أرادوا شقه ۔ وإني جئتهم عند نیم کرنا چاہا۔ میں ان کے پاس ضرورت حقہ کے الضرورة الحقة، وفساد الأمة، فكانت أدلة صدقى موجودة في عین موقعہ پر اور امت کے بگاڑ کے وقت آیا ہوں ۔ پس میری صداقت کے دلائل خودان کے أنفسهم ما رأوها من الغباوة ، ثم نفوس میں موجود تھے جنہیں انہوں نے گند ذہنی من الشقوة أنهم ما فكروا في كے باعث نہیں دیکھا۔ پھر بد بختی یہ بھی ہے کہ رأس المائة البدرية، التي تختص انہوں نے اس چودہویں صدی کے آغاز کے بالمسيح الموعود عند أهل بارے میں غور نہیں کیا جو اہل بصیرت کے نزدیک البصيرة، واتفقت عليها شهادات مسیح موعود کے ساتھ مختص ہے اور اس پر اہل کشف کی أهل الكشف والأحاديث الصحيحة، شہادتیں اور احادیث صحیحہ اور قرآنی نصوص کے اشارات متفق ہیں ۔ اور جب انہوں نے انکار پر وإشارات النصوص القرآنية۔ ولما أصروا على الإنكار أقبلت اصرار کیا تو میں منکروں کی طرف متوجہ ہوا۔ اور میں نے کہا کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے على المنكرين، وقلت عندى شہادتیں موجود ہیں ۔ کیا تم انہیں قبول کرنے شهادات من الله، فهل أنتم من والوں میں سے ہو؟ لیکن انہوں نے ان شہادتوں المتقبلين؟ فجحدوا بها واستيقنتها کا انکار کیا حالانکہ اُن کے دل اُن پر یقین لاچکے أنفسهم۔ فيا أسفا على القوم تھے ۔ ہائے افسوس اس ظالم قوم پر ۔ تب میں الظالمين! هنالك تمنيت لو کان نے تمنا کی کہ کوئی ایسی وبا آئے جو حد سے تجاوز وباء ينبه المعتدين، و وأُوحتى التی کرنے والوں کو متنبہ کہ و متنبہ کرے۔ ے ۔ اور مجھے وحی کی گئی أن الطاعون نازل وقد دعته کہ طاعون نازل ہونے والی ہے جسے خود فاسقوں ۲۳