مواہب الرحمٰن — Page 134
مواهب الرحمن ۱۳۴ اردو ترجمہ ترون الناس جعلوا مقصودهم کی طرح جھومتے ہوئے نہ چلو تم دیکھ رہے ہو کہ لوگوں نے ہر معاملہ میں دولت کو ہی اپنا مقصود بنا في كل أمر نشبا، وإن لم يحصل فيحسبون الدين نصبا۔ وفي الدين لا يعضد هممهم إلا رکھا ہے اور اگر وہ نہ ملے تو وہ دین کو ایک مصیبت سمجھتے ہیں ۔ دین میں صرف نفسانی خواہشات ہی ان کی ہمتیں باندھتی ہیں پس وہ ان خواہشات کی الأهواء، فيقبلون بشرطها وإلا شرط پر دین کو قبول کرتے ہیں ورنہ انکار کر دیتے فالإباء ۔ ولا يبالون مَقاحِم ہیں اس لالچ میں ) وہ ہلاکت گاہوں اور سنگین الأخطار، ولا مخاوف الأقطار ۔ خطرات اور خوفناک مقامات کی پرواہ نہیں کرتے لا يعلمون أى شيء يدفع ما انہیں معلوم نہیں کہ وہ کونسی چیز ہے جو ان کی مصیبت أصابهم، وينفى الحذر الذی اور ان کے اس خوف کو جو انہیں لاحق ہے دور نابهم ۔ أسلموا للدنيا وملئوا منها کرے۔ وہ دنیا کے ہی مطیع ہو گئے ہیں۔ اور اپنے قلوبهم، فيعدون إليها وتحدو دلوں کو اسی سے بھر لیا ہے۔جس کی وجہ سے وہ اس الأهواء ركوبهم ۔ أيها الناس قد کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں اور خواہشات ان کی سواریوں کو دوڑاتی ہیں ۔ اے لوگو! طاعون عاث الطاعون في بلادكم، وما رأى مثل صوله أحد من نے تمہارے شہروں میں تہلکہ مچایا ہوا ہے اور اس کا حملہ ایسا شدید ہے کہ جس کی نظیر تمہارے آباؤ أجدادكم ۔ وتعلمون أن دوده لا اجداد میں سے کسی نے نہیں دیکھی ۔ اور تم جانتے ہو تَهْلِكُ إلا في صميم البرد أو في کہ طاعون کے کیڑے صرف شدید سردی یا شدید گرمی صميم الحر، فاختاروا كليهما میں ہی ہلاک ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان دونوں تعصموا من الضر۔ ولا نعنى (حالتوں) کو اپناؤ تاکہ تم ضرر سے بچائے بالبرد إلا تبريد النفس من جاؤ اور سردی سے ہماری مراد محض جذبات سے نفس الجذبات، والانقطاع إلى الحضرة کو ٹھنڈا کرنا ، حضرت احدیت کی طرف انقطاع ،