مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 124

مواهب الرحمن ۱۲۴ اردو ترجمہ أهواء هم وينسون مراده۔ سے ڈرتے ہیں ۔ اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے اور اپنے خدا کے منشاء کو بھول جاتے يبتغون عند أبناء الدنيا عزّة، وما ہیں ۔ وہ فرزندانِ دنیا کی بارگاہ میں عزت پانے هي إلا ذلة ۔ أنتم شهداء الله فلا کے خواہشمند ہیں حالانکہ یہ تو سراسر ذلت ہے۔ تم تكتموا الشهادة، وأخبروا عباده اللہ کے گواہ ہو اس لئے گواہی کو مت چھپاؤ ۔ أن النار موقودة فاتقوها، والديار بندگان خدا کو یہ اچھی طرح بتا دو کہ آگ بھڑ کی ہوئی موبوءة فاجتنبوها ۔ وإن الدنيا ہے لہذا اس سے بچو۔ ملک و با زدہ ہے پس اس شاجنة، وأسودها مفترسة، فلا سے بچو۔ دنیا گھنے درختوں والی وادی ہے اور اس کے شیر خونخوار ہیں ۔ اس لئے اس کی وادیوں میں تجولوا في شجونها، وامنعوا مٹر گشت نہ کرو اور اپنے نفسوں کو ان کی بیبا کی اور نفوسكم من جرأتها ومجونها، بیحیائی سے بچاؤ۔ انہیں پاک صاف کرو اور چاندی کی وزكوها وبيضوها كاللجين، ولا طرح چپکاؤ۔ اور اس وقت تک نہ چھوڑو یہاں تک تتركوها حتى تصير نقية من ويل وعیب سے پاک ہو جائیں ۔ اور جس نے الدرن والشَّين ۔ وقد أفلح من اس کو پاک کیا تو سمجھو کہ ) اپنے مقصود کو پا گیا اور زگاها، وقد خاب من دساها ولا جس نے اسے مٹی میں ) گاڑ دیا ( سمجھ لو کہ ) وہ تتكثوا على البيعة من غير التطهر نامراد ہو گیا۔ پس بغیر تظہیر وتزکیہ کے خالی بیعت پر تکیہ نہ کرو کیونکہ فطرت کو پاک صاف کئے بغیر والتزكية، ولستم إلا كهاجن من غير عُدّة الفطرة، ولا تطلبوا عين طرح ہو جس کی بلوغت سے پہلے شادی کر دی المعرفة من الذين لم يُعطوا عين جائے ۔ تم ان لوگوں سے چشمہ معرفت طلب نہ کرو البصيرة ۔ واعتلقوا بی اعتلاق جنہیں چشم بصیرت عطا نہیں کی گئی۔ میرے ساتھ الزهر بالشجرة ، لتصلوا من اليسا تعلق رکھو ، جیسا ایک شگوفے کا درخت سے ہوتا (بیعت کرنے کی صورت میں ) تم اُس بچی کی