مواہب الرحمٰن — Page 116
مواهب الرحمن ١١۶ اردو ترجمہ الغبراء وكانت اليهود قبل ذالك براجمان ہے۔ تو اُس دن کیا حال ہوگا جب وہ ينتظرون كمثل قومنا إلياس زمین پر نازل ہوگا۔ قبل ازیں ہماری قوم کی مانند فما كان مآل أمرهم إلا يأس ۔ یہود الیاس کا انتظار کر رہے تھے ۔ پس اُن کے معاملہ کا انجام سوائے مایوسی کے کچھ نہ ہوا ۔ پس انسان کی دانائی یہی ہے کہ وہ دوسروں سے عبرت حاصل کرے اور ضرر رساں راہوں سے گریز کرے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فمن عقل المرء أن يعتبر بالغير ويجتنب سبل الضير، وقد قال الله تعالى : فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا فليسألوا النصارى هل نزل تَعْلَمُونَ ہے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ نصاری سے إلياس قبل عيسى من السماء یہ پوچھیں کہ کیا عیسی سے پہلے الیاس آسمان سے كما كانوا يزعمون وليسألوا نازل ہوا جیسا کہ وہ گمان کرتے تھے ؟ اسی طرح اليهود هل وجدتم ما فقدتم أيها انہیں یہودیوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ اے انتظار کرنے والو ! کیا تم نے اپنے گم گشتہ (نبی) کو المنتظرون فثبت من هذا أن هذه العقائد ليست إلا الأهواء ، ولا پالیا ہے؟ پس اس اس سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے یہ عقائد خواہشات کے سوا کچھ نہیں تھے اور آسمان يجيء أحد من السماء وما جاء ۔ سے کوئی نہیں آئے گا اور نہ کوئی اس سے پہلے آیا فمن كان يبنى أمره على العادة ہے۔ پس جو شخص اپنے عقیدہ کی بنا عادت مستمرہ اور المستمرة والسنة الجارية، هو أحق سنت جاریہ پر رکھتا ہے وہ اس شخص سے زیادہ امن بالأمن من رجل يأخذ طريقا کا حقدار ہے جو سابق بزرگوں سے وراثتاً ملنے والی غير سبيل متوارث من السابقين، راہ کو چھوڑ کر کوئی اور ایسی راہ اختیار کرتا ہے جس کی لے پس اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ (النحل : ۴۴)