محامد خاتم النبیین ﷺ و نذرانہء دُرود و سلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 66

محامد خاتم النبیین ﷺ و نذرانہء دُرود و سلام — Page 10

۱۰ ہیں۔ کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ محبت کی " (حقیقة الوحی مثلا ) ( آن حضری کی الہ علیہ سلم کی وحانی توجہ بی تراشی ہے اللہ جل شانہ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی ۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے ۔ اور آپ کی توجہ روحانی بنی تراش ہے ۔ اور روحان ہے ۔ اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی ۔ یہی معنی اس حدیث اور یہ اور ۔ ہو کے ہیں کہ عُلَمَاء اُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ یعنی میری اُمت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے ۔ اور بنی اسرائیل بنی اسرائیل کے ہوں گئے ۔ اور میں اگر چہ بہت نبی آئے مگر اُن کی نبوت موسی کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہیبت تھیں۔ حضرت موسی کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا “ و حقیقة الوحی منه حاشیه ) (