حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 575
۱۲۵۷ نے بینم کا ید بیضا که با او تابنده باز با ذوالفقار یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے۔ پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں ۔ یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گذر گیا کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجھہ کے ہاتھ ۔ کود۔ میں تھی ۔ مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا ۔ اس طرح پر کہ اس کا چپکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی ۔ سو وہ ہاتھ ایسا ہو گا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہو گئی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سُلْطَانُ الْقَلَم ہوگا ۔ اور اس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی ۔ یہ پیشگوئی بعینہ اس عاجز کے اس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے:۔ كِتَابُ الْوَلِيِّ ذُو الْفَقَارِ عَلِيِّ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔ یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔ اسی بناء پر با رہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔ (نشان آسمانی روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۷۵) میں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشا پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں ۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر کو عربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے۔ (۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی ۔ مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا۔ یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر ان مضامین کو میں لکھ سکتا۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ۔ (۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب میں مثلاً ایک عربی عبارت لکھتا ہوں اور سلسلہ عبارت میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب اُن کی نسبت خدا تعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح روح القدس میرے دل میں ڈالتا ہے اور زبان پر جاری کرتا ہے اور اس وقت میں اپنی حس سے غائب ہوتا ہوں ۔ مثلاً عربی لے اس کا وہ روشن ہاتھ جو ا تمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنی ( وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی )