حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 574 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 574

۱۲۵۶ وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار ایک دم میں غمکدے ہو جائیں گے عشرت کدے شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہو کر سوگوار وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصرِ بریں پست ہو جائیں گے جیسے پست ہو اک جائے غار ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں اُن کا شمار پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں اُن کو جو جھکتے ہیں اس درگہ پہ ہو کر خاکسار یہ خوشی کی بات ہے سب کام اس کے ہاتھ ہے وہ جو ہے دھیما غضب میں اور ہے آمرزگار کب یہ ہو گا؟ یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر دی خبر مجھ کو کہ وہ دن ہوں گے ایام بہار پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی یہ خدا کی وحی ہے اب سوچ لو اے ہوشیار یاد کر فرقاں سے لفظ زُلْزِلَتْ زِلْزَالَهَا ایک دن ہو گا وہی جو غیب سے پایا قرار سخت ماتم کے وہ دن ہوں گے مصیبت کی گھڑی لیک وہ دن ہوں گے نیکوں کے لئے شیریں ثمار آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار انبیاء سے بغض بھی اے غافلو اچھا نہیں دور تر ہٹ جاؤ اس سے ہے یہ شیروں کی کچھار در همین صفحه ۵۴،۱۵۳ از بر عنوان ” پیشگوئی جنگ عظیم شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا جو نمونہ قیامت ہوگا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہئے جس کی طرف سورۃ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلے کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ ممکن ہے یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے ۔ ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کا ذب ٹھہروں گا۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵۱ حاشیه ) سُلْطَانُ القلم اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سُلْطَانُ القَلَم رکھا اور میرے قلم کو ذو ا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۲ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۱ء صفحه ۲)