حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 498

١١٨٠ مگر وہ شخص جو شب کو ر ہو جو رات کو کچھ نہیں دیکھ سکتا اس کے لئے یہ چاندنی کچھ مفید نہیں۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس دنیا کے معجزات اسی رنگ سے ظاہر ہوں جس رنگ سے قیامت میں ظہور ہوگا۔ مثلاً دو تین سومر دے زندہ ہو جائیں اور بہشتی پھل ان کے پاس ہوں اور دوزخ کی آگ کی چنگاریاں بھی پاس رکھتے ہوں اور شہر بشہر دورہ کریں اور ایک نبی کی سچائی پر جو قوم کے درمیان ہو گواہی دیں اور لوگ ان کو شناخت کر لیں کہ در حقیقت یہ لوگ مر چکے تھے اور اب زندہ ہو گئے ہیں اور وعظوں اور لیکچروں سے شور در ہوگئے ہیں اور مچادیں کہ در حقیقت یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے سچا ہے۔ سو یا د رہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور نہ آئندہ قیامت سے پہلے کبھی ظاہر ہوں گے۔ اور جو شخص دعوی کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہو چکے ہیں وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے اور اس کو سنت اللہ کا علم نہیں۔ اگر ایسے معجزات ظاہر ہوتے تو دنیا دنیا نہ رہتی اور تمام پردے کھل جاتے اور ایمان لانے کا ایک ذرہ بھی ثواب باقی نہ رہتا۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۳ ۴۴) بیان ڈپٹی مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب جناب کے کل کے مباہلہ کا جواب یہ ہے کہ ہم مسیحی تو پرانی تعلیمات کے لئے نئے معجزات کی کچھ ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ ہم اس کی استطاعت اپنے اندر دیکھتے ہیں ۔ بجز اس کے کہ ہم کو وعدہ یہ ہوا ہے کہ جو درخواست بمطابق رضاء الہی کے تم کرو گے وہ تمہارے واسطے حاصل ہو جائے گی۔ اور نشانات کا وعدہ ہم سے نہیں لیکن جناب کو اس کا بہت ساناز ہے۔ ہم بھی دیکھنے معجزہ سے انکار نہیں کرتے۔ اگر اسی میں مہربانی خلق اللہ کے اوپر ہے کہ نشان دکھلا کر فیصلہ کیا جائے تو ہم نے تو اپنا عجز بیان کیا۔ جناب ہی کوئی معجزہ دکھلاویں۔ اور اسوقت آپ نے اپنے آخری مضمون دیروزہ میں کہا تھا اور کچھ آج بھی اس پر ایماء ہے۔ اب زیادہ گفتگو کی اس میں کیا ضرورت ہے۔ ہم دونوں عمر رسیدہ ہیں آخر قبر ہمارا ٹھکانہ ہے۔ خلق اللہ پر رحم کرنا چاہئے کہ آؤ کسی نشان آسمانی سے فیصلہ کر لیں اور یہ بھی آپ نے کہا کہ مجھے خاص الہام ہوا ہے کہ اس میدان میں تجھے فتح ہے اورضرور خدائے راست ان کے ساتھ ہو گا جو راستی پر ہیں۔ ضرور ضرور ہی ہوگا۔ آپ کی اس تحریر کے خلاصہ کا یہ جواب ہے جیسا کہ ہم آگے بھی لکھ چکے ہیں کہ ہم آپ کو کوئی پیغمبر یا رسول یا شخص ملہم جان کر آپ سے مباحثہ نہیں کرتے۔ آپ کے ذاتی خیالات اور وجوہات اور الہامات سے ہمارا کچھ سروکار نہیں ہم فقط آپ کو ایک محمدی شخص فرض کر کے دین