حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 497
۱۱۷۹ دنیا کی معمولی باتوں میں سے نہیں ہیں۔ اور نہ ایک کا ذب ان کے دکھلانے پر قادر ہو سکتا ہے۔ اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ امور انسانی بناوٹ سے بہت دور ہیں۔ اور بشری دسترس سے برتر ہیں اور ان میں ایک ایسی خصوصیت اور امتیازی علامت ہے جس پر انسان کی معمولی طاقتیں اور پر تکلف منصوبے قدرت نہیں پاسکتے ۔ اور وہ اپنے لطیف فہم اور نور فراست سے اس تہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ ان کے اندر ایک نور ہے اور خدا کے ہاتھ کی ایک خوشبو ہے جس پر مکر اور فریب یا کسی چالا کی کا شبہ نہیں ہو سکتا۔ پس جس طرح سورج کی روشنی پر یقین لانے کے لئے صرف وہ روشنی ہی کافی نہیں بلکہ آنکھ کے نور کی بھی ضرورت ہے تا اس روشنی کو دیکھ سکے اسی طرح معجزہ کی روشنی پر یقین لانے کے لئے فقط معجزہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ نورفراست کی بھی ضرورت ہے اور جب تک معجزہ دیکھنے والے کی سرشت میں فراست صحیحہ اور عقل سلیم کی روشنی نہ ہو تب تک اس کا قبول کرنا غیر ممکن ہے مگر بد بخت انسان جس کو یہ نورفر است عطا نہیں ہوا وہ ایسے معجزات سے جو صرف امتیازی حد تک ہیں تسلی نہیں پاتا اور بار بار یہی سوال کرتا ہے کہ بجز ایسے معجزہ کے میں کسی معجزہ کو قبول نہیں کر سکتا کہ جو نمونہ قیامت ہو جائے ۔ مثلاً کوئی شخص میرے روبرو آسمان پر چڑھ جائے اور پھر روبرو ہی آسمان سے اُترے اور اپنے ساتھ کوئی ایسی کتاب لائے جو اُترنے کے وقت اس کے ہاتھ میں ہوا اور صرف اسی پر کفایت نہیں بلکہ تب مانیں گے کہ ہم اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر دیکھ لیں اور پڑھ لیں۔ یا چاند کا ٹکڑایا سورج کا ٹکڑا اپنے ساتھ لائے جو زمین کو روشن کر سکے یا فرشتے اس کے ساتھ آسمان سے اُتریں۔ جو فرشتوں کی طرح خارق عادت کام کر کے دکھلائیں۔ یا دس ہیں مردے اس کی دعا سے زندہ ہو جائیں اور وہ شناخت کئے جائیں کہ فلاں فلاں شخص کے باپ دادا ہیں جو فلاں تاریخ مر گئے تھے اور صرف اسی قدر کافی نہیں بلکہ ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عام شہروں میں مجلسیں منعقد لیکو کے پیچر دیں اور بلند آواز سے کہہ دیں کہ در حقیقت ہم مُردے ہیں جو دوبارہ زندہ ہو کر دنہ ندہ ہو کر دنیا میں آئے ہیں اور ہم اس لئے آئے ہیں کہ تا گواہی دیں کہ فلاں مذہب سچا ہے یا فلاں شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں وہ سچ کہتا ہے اور ہم خدائے تعالیٰ کے منہ سے سُن کر آئے ہیں کہ وہ سچا ہے۔ یہ وہ خود تراشیدہ معجزات ہیں جو اکثر جاہل لوگ جو ایمان کی حقیقت سے بکلی بے خبر ہیں مانگا کرتے ہیں یا ایسے ہی اور بیہودہ خوارق جو خدائے تعالیٰ کی اصل منشاء سے بہت دور ہیں طلب کیا کرتے ہیں۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۴ تا ۴۶) در حقیقت معجزات کی مثال ایسی ہے جیسے چاندنی رات کی روشنی جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہو