حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 445
۱۱۲۷ اشتہار صداقت انوار بغرض دعوت مقابله چهل روزه گرچہ ہر کس زره لاف بیانی دارد صادق آنست که از صدق نشانی دارد ! ہمارے اشتہارات گذشتہ کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ہم نے اس سے پہلے یہ اشتہار دیا تھا کہ جو معزز آریہ صاحب یا پادری صاحب یا کوئی اور صاحب مخالف اسلام ہیں اگر ان میں سے کوئی صاحب ایک سال تک قادیان میں ہمارے پاس آ کر ٹھہرے تو در صورت نہ دیکھنے کسی آسمانی نشان کے چوبیس سو روپیہ انعام پانے کا مستحق ہوگا سو ہر چند ہم نے تمام ہندوستان و پنجاب کے پادری صاحبان وآریہ صاحبان کی خدمت میں اسی مضمون کے خط رجسٹری کرا کر بھیجے مگر کوئی صاحب قادیان میں تشریف نہ لائے بلکہ منشی اندر من صاحب کے لئے تو مبلغ چوبیس سو روپیہ نقد لاہور میں بھیجا گیا تو وہ کنارہ کر کے فرید کوٹ کی طرف چلے گئے ۔ ہاں ایک صاحب پنڈت لیکھر ام نام پشاوری قادیان میں ضرور آئے تھے اور ان کو بار بار کہا گیا کہ اپنی حیثیت کے موافق بلکہ اس تنخواہ سے دو چند جو پشاور میں نوکری کی حالت میں پاتے تھے ہم سے بحساب ماہواری لینا کر کے ایک سال تک ٹھہرو اور اخیر پر یہ بھی کہا گیا کہ اگر ایک سال تک منظور نہیں تو چالیس دن تک ہی ٹھہر و تو انہوں نے ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت کو منظور نہیں کیا اور خلاف واقعہ سرا سر دروغ بے فروغ اشتہارات چھپوائے سو ان کے لئے تو رسالہ سُرمہ چشم آریہ میں دوبارہ یہی چالیس دن تک اس جگہ رہنے کا پیغام تحریر کیا گیا ہے۔ ناظرین اس کو پڑھ لیں لیکن یہ اشتہار اتمام حجت کی غرض سے بمقابل منشی جیوند اس صاحب جو سب آریوں کی نسبت شریف اور سلیم الطبع معلوم ہوتے ہیں اور لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر ہوشیار پور جو وہ بھی میری دانست میں آریوں میں سے غنیمت ہیں اور منشی اندر من صاحب مراد آبادی جو گویا دوسرا مصرع سورستی صاحب کا ہیں اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر رئیس امرتسر جو حضرات عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج آدمی ہیں اور پادری عمادالدین لاہر صاحب امرتسری اور پادری ٹھاکر داس صاحب مولف کتاب اظہار عیسوی شائع کیا جاتا ہے کہ اب ہم بجائے ایک سال کے صرف چالیس روز اس شرط سے مقرر کرتے ہیں کہ جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے لے اگر چہ ہر کوئی لاف و گزاف کی راہ سے بیان کر سکتا ہے لیکن صادق وہ ہے کہ جو اپنے صدق کی نشانی رکھتا ہے۔